پرائس کنٹرول:
معاشی ضرورت اور مؤثر حکمتِ عملی
تمہید
اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ کسی بھی
معاشرے کے لیے محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک سماجی، اخلاقی اور انسانی مسئلہ
بھی ہے۔ جب آٹا، چاول، دال، گھی، چینی، سبزیاں، ادویات اور دیگر بنیادی ضروریات
عام آدمی کی قوتِ خرید سے باہر ہونے لگیں تو اس کے اثرات براہِ راست غریب اور
متوسط طبقے پر پڑتے ہیں۔ دوسری طرف بعض تاجر مصنوعی قلت پیدا کرکے، ذخیرہ اندوزی
کرکے یا ناجائز منافع خوری کے ذریعے قیمتیں بڑھاتے ہیں تو معاشرے میں معاشی
ناانصافی جنم لیتی ہے۔
اسی لیے جدید ریاستوں میں Price Control (قیمتوں
کا نظم و ضبط) کو معاشی پالیسی کا اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسلام نے بھی بازار
کو مکمل طور پر بے لگام نہیں چھوڑا بلکہ تجارت، منصفانہ قیمت، صارف کے حقوق، ذخیرہ
اندوزی، دھوکہ دہی، ناجائز منافع خوری اور ریاستی نگرانی کے حوالے سے واضح اصول
فراہم کیے ہیں۔
1۔ پرائس کنٹرول سے کیا مراد ہے؟
پرائس کنٹرول سے مراد
ریاست یا متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے اشیائے ضروریہ اور خدمات کی قیمتوں کو اس طرح
منظم کرنا ہے کہ:
عوام کو ضروری اشیا مناسب
قیمت پر دستیاب ہوں۔
تاجروں کو جائز اور مناسب
منافع حاصل کرنے کا حق ملے۔
مصنوعی مہنگائی کا راستہ
روکا جائے۔
ذخیرہ اندوزی اور ناجائز
منافع خوری کا سدباب ہو۔
صارفین کو استحصال سے تحفظ
حاصل ہو۔
بازار میں مسابقت اور
شفافیت برقرار رہے۔
پرائس کنٹرول کا مقصد ہرگز
یہ نہیں کہ حکومت ہر چیز کی قیمت اپنی مرضی سے مقرر کرے، بلکہ بنیادی مقصد منصفانہ
بازار اور عوامی مفاد کا تحفظ ہے۔
2۔ اسلام اور قیمتوں کا بنیادی تصور
اسلام ميں بنيادي طور
پربلا وجه قيمتيں كنٹرول ميں ركھنے كا كوئي حكم نهيں هے بلكه تجارت ميں باهمي
رضامندي كو مقدم ركھا هے اسي لئے اسلام نے
تجارت کو جائز قرار دیا ہےالبته اگر كسي ايك فريق كا استيصال هو رها هو تو پھر
اسلام وهاں قدغن لگاتا هے اسي ميں سے ايك تسعير بھي هے، تجارت كي حلت كے متعلق
فرمايا:
وَأَحَلَّ
اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا. (البقرۃ: 275)
"اللہ
نے خرید و فروخت کو حلال اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔"
اور اس تجارت كو باهمي رضامندي
سے طے هونا چاهئے جيسا كه قرآن مجیدميں دوسري
جگه فرمايا گيا ہے:
يَا أَيُّهَا
الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا
أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ. (النساء: 29)
"اے
ایمان والو! آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ، مگر یہ کہ باہمی
رضامندی سے تجارت ہو۔"
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام
میں تجارت بنیادی طور پر باہمی رضامندی، دیانت اور جائز طریقے پر قائم ہونی چاہیے۔
ایسی تجارت جس میں دھوکہ، استحصال، مصنوعی قلت یا عوام کی مجبوری سے ناجائز فائدہ
اٹھانا شامل ہو، اسلامی معاشی اخلاقیات کے خلاف ہے۔
اسلامي تجارت كا اصول يه
هے كه منافع جائز حد تك لي جائے نا جائز حد تك منافع ليا اسلامي اصول تجارت كے
خلاف هے، منافع آٹے ميں نمك كے برابر لينا چاهئے تاكه صارف پر زياده بوجھ نه آئے
اور غريب طبقه كا استيصال نه هو۔
3۔ بازار کو مکمل طور پر آزاد چھوڑ دینا
اسلامی تصور نہیں
بعض لوگ یہ تصور پیش کرتے ہیں کہ قیمتیں ہمیشہ طلب اور
رسد کے ذریعے طے ہونی چاہییں اور ریاست کو بازار میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
بلاشبہ اسلام نے عام حالات میں تاجروں کو تجارت اور قیمت مقرر کرنے کی آزادی دی
ہے، لیکن یہ آزادی مطلق اور غیر مشروط نہیں۔ اسلامی معاشی نظام میں فرد کی آزادی
کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقوق، اجتماعی مفاد، عدل، دیانت، عدمِ استحصال، اور ریاست
کی ذمہ داری بھی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
لہٰذا اگر بازار کا قدرتی نظام کسی مصنوعی عمل کے ذریعے
خراب کیا جا رہا ہو، یا عوام کی بنیادی ضروریات کو ناجائز طریقے سے محدود کرکے ان
سے زیادہ قیمت وصول کی جا رہی ہو، تو ریاست کی مداخلت کا جواز پیدا ہوتا ہے۔ اس
صورت حال ميں رياست كو چاهئے كه وه قيمت كو كنٹرول كرنے كے لئے مداخلت كرے اور
عوام الناس كے مفاد كو مد نظر ركھتے هوئے اشياء كي قيمتيں مقرر كرے۔
4۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں قیمتوں کا مسئلہ
احادیث میں ایک اہم واقعہ آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے
زمانۂ مبارک میں اشیا کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ صحابۂ کرامؓ نے عرض کیا:
يَا رَسُولَ
اللَّهِ، غَلَا السِّعْرُ، فَسَعِّرْ لَنَا،
"اے اللہ کے
رسول! قیمتیں بڑھ گئی ہیں، ہمارے لیے قیمت مقرر فرما دیجیے۔"
آپ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الْمُسَعِّرُ،
الْقَابِضُ، الْبَاسِطُ، الرَّازِقُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ
وَلَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ يُطَالِبُنِي بِمَظْلَمَةٍ فِي دَمٍ وَلَا مَالٍ۔(سنن أبي داود،
سنن الترمذي، سنن ابن ماجه)
"بے شک اللہ ہی
قیمت مقرر کرنے والا، تنگی کرنے والا، کشادگی دینے والا اور رزق دینے والا ہے، اور
میں امید رکھتا ہوں کہ میں اللہ سے اس حال میں ملاقات کروں کہ تم میں سے کوئی شخص
خون یا مال کے معاملے میں مجھ سے ظلم کا مطالبہ کرنے والا نہ ہو۔"
اس حدیث سے فقہاء نے یہ
اصول اخذ کیا کہ محض قیمت بڑھ جانے کی وجہ سے ہر حال میں جبری نرخ مقرر کرنا مطلوب
نہیں؛ کیونکہ قیمتیں طلب و رسد، پیداوار اور دیگر حقیقی معاشی عوامل کے نتیجے میں
بھی بڑھ سکتی ہیں۔
لیکن اس حدیث کو یہ معنی
دینا بھی درست نہیں کہ ریاست کبھی قیمتوں میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
5۔ جبری قیمت مقرر کرنے اور ناجائز قیمت
بڑھانے میں فرق
یہاں ایک بنیادی فرق
سمجھنا ضروری ہے۔
اگر کسی چیز کی قیمت قدرتی
طور پر بڑھ رہی ہو، مثلاً پیداوار کم
ہوگئی ہو، فصل خراب ہوگئی ہو، نقل و حمل کے اخراجات بڑھ گئے ہوں، بیرونی منڈی میں
قیمت بڑھ گئی ہو، تو محض قیمت بڑھنے کی وجہ سے تاجر کو ظالم قرار نہیں دیا جاسکتا۔
لیکن اگر کوئی شخص مال
خرید کر چھپا لے، مصنوعی قلت پیدا کرے، مارکیٹ میں مال کی رسد روک دے، تاجروں کا
گٹھ جوڑ بنائے، عوام کی مجبوری سے ناجائز فائدہ اٹھائے، تو معاملہ بالکل مختلف
ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں ریاست کا فرض ہے کہ وہ مداخلت کرکے ظلم اور استحصال کو
روکے۔
6۔ احتکار: قیمتوں میں مصنوعی اضافے کا بڑا
ذریعہ
اسلام نے ذخیرہ اندوزی یا
احتکار کی سخت مذمت کی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنِ احْتَكَرَ
فَهُوَ خَاطِئٌ.(صحیح مسلم)
"جس نے ذخیرہ
اندوزی کی وہ گناہ گار ہے۔"
احتکار کا بنیادی تصور یہ
ہے کہ کوئی شخص لوگوں کی ضرورت کی چیز اس مقصد سے روک کر رکھے کہ بازار میں قلت پیدا
ہو، قیمت بڑھ جائے اور پھر وہ زیادہ منافع حاصل کرے۔ یہ عمل بظاہر تجارت معلوم
ہوتا ہے، لیکن حقیقت میں یہ عوامی ضرورت کو اپنے مالی مفاد کا ذریعہ بنانے کے
مترادف ہے۔
7۔ ذخیرہ اندوزی اور عام تجارتی ذخیرہ میں فرق
ہر قسم کا ذخیرہ احتکار
نہیں ہوتا۔
ایک تاجر مستقبل کی ضرورت کے لیے مال خرید سکتا ہے،گودام
میں مال رکھ سکتا ہے، کاروباری منصوبہ بندی کرسکتا ہے، قیمت بڑھنے کی توقع میں
جائز کاروباری فیصلے کرسکتا ہے۔
لیکن اگر اس کا مقصد یہ ہو
کہ لوگوں کو مطلوب اشیائے ضروریہ بازار سے غائب کرکے قلت پیدا کی جائے اور پھر مہنگے
داموں فروخت کیا جائے تو یہ احتکار کے دائرے میں آسکتا ہے۔
لہٰذا قانون بناتے وقت بھی
عام کاروباری ذخیرہ اور استحصالی ذخیرہ اندوزی میں فرق کرنا ضروری ہے۔
8۔ ناجائز منافع خوری اور دھوکہ دہی
پرائس کنٹرول کا ایک اہم
پہلو ناجائز منافع خوری کی روک تھام ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَنْ غَشَّنَا
فَلَيْسَ مِنَّا۔(صحیح مسلم)
"جس نے ہمیں
دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں۔"
آج قیمتوں میں اضافے کے
لیے صرف مصنوعی قلت ہی استعمال نہیں ہوتی بلکہ بعض اوقات ناقص چیز کو معیاری ظاہر
کرنا، کم وزن دینا، ملاوٹ کرنا، پرانی چیز کو نئی ظاہر کرنا، غلط لیبل لگانا، مصنوعی
رعایت ظاہر کرنا، قیمت چھپا کر وصولی کے وقت زیادہ رقم لینا جیسے طریقے بھی
استعمال ہوتے ہیں۔
یہ سب صارف کے حقوق کی
خلاف ورزی ہیں۔
9۔ اسلام میں ریاست کی ذمہ داری
اسلامی سیاسی و معاشی فکر
میں حکومت کی بنیادی ذمہ داریوں میں عدل کا قیام اور ظلم کا خاتمہ شامل ہے۔
قرآن مجید فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ
يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ. (النحل: 90)
"بے شک اللہ عدل
اور احسان کا حکم دیتا ہے۔"
لہٰذا ریاست کو چاہیے کہ
بازار میں ایسا ماحول پیدا کرے جہاں تاجر کو جائز کاروبار کی آزادی ہو، صارف کو
استحصال سے تحفظ حاصل ہو، مصنوعی قلت پیدا نہ کی جاسکے، ذخیرہ اندوزی کی روک تھام
ہو، ملاوٹ اور کم تولنے کا سدباب ہو، ناجائز منافع خوری کی حوصلہ شکنی ہو۔
10۔ محتسب اور بازار کی نگرانی
اسلامی تاریخ میں حسبہ کا ادارہ اس حوالے سے انتہائی
اہم مثال ہے۔ محتسب کا کام بازار میں ناپ تول کی نگرانی، معیار کی حفاظت، دھوکہ
دہی کی روک تھام، ناجائز کاروباری طریقوں کی نگرانی، عوامی حقوق کا تحفظ وغیرہ
تھا۔
حضرت عمرؓ کے دور میں بازار کی نگرانی پر خصوصی توجہ دی
گئی۔ اسلامی معاشی فکر میں اس تصور نے بعد میں باقاعدہ نظامِ حسبہ کی شکل اختیار
کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی ریاست صرف ٹیکس وصول کرنے والا ادارہ نہیں بلکہ
بازار میں اخلاقی اور قانونی نظم قائم کرنے کی ذمہ دار بھی ہے۔
11۔ پرائس کنٹرول کے مؤثر ذرائع
محض سرکاری نرخ نامہ جاری
کردینا قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی نہیں۔ مؤثر پرائس کنٹرول کے لیے کئی
اقدامات ضروری ہیں۔
1۔ طلب و رسد کا جائزہ
حکومت کو سب سے پہلے یہ معلوم کرنا چاہیے کہ قیمت کیوں
بڑھ رہی ہے:
پیداوار کم ہے؟
رسد میں رکاوٹ ہے؟
درآمدی لاگت بڑھی ہے؟
ذخیرہ اندوزی ہے؟
مڈل مین کا کردار غیر
معمولی ہے؟
یا مصنوعی قلت پیدا کی گئی
ہے؟
جب تک قیمت میں اضافے کی
اصل وجہ معلوم نہ ہو، مؤثر پالیسی بنانا مشکل ہے۔ اس لئے ان وجوهات كا جائزه لينے
كے بعد اس كے حل كے لئے اقدامات كرنے چاهئے۔
2۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی
ضروری اشیا کے غیر معمولی ذخائر کی نگرانی کی جائے اور
مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف قانون نافذ کیا جائے۔
3۔ مارکیٹ انسپکشن
بازاروں میں باقاعدہ معائنہ ہونا چاہیے تاکہ نرخ نامہ
نمایاں ہو، کم وزن نہ دیا جائے، ملاوٹ نہ ہو، زائد قیمت وصول نہ کی جائے۔
4۔ شفاف نرخ نامہ
ریاست کو بنیادی اشیا کے لیے واضح اور قابلِ فہم نرخ
نامے جاری کرنے چاہییں۔
5۔ شکایات کا فوری نظام
صارف کو یہ سہولت حاصل ہونی چاہیے کہ وہ زائد قیمت،
ملاوٹ یا کم وزن کی شکایت آسانی سے درج کراسکے۔ اور پھر ان شكايات پر نوٹس ليا
جائے اور عوام الناس كي شكايات كو فورا حل كيا جائے۔
6۔ ذخیرہ اندوزی کے خلاف ڈیجیٹل نگرانی
جدید دور میں گوداموں، بڑی منڈیوں اور سپلائی چین کی
ڈیجیٹل نگرانی کے ذریعے مصنوعی قلت کا بروقت پتا لگایا جاسکتا ہے۔
12۔ صرف قیمت مقرر کرنا کافی نہیں
بلا تحقيق قيمت مقرر كرنا كافي نهيں بلكه اشياء كي لاگت
اور مصارف كو مد نظر ركھ كر قيمت مقرر كرے۔اگر حکومت کسی چیز کی قیمت مثلاً 100 روپے
مقرر کردے جبکہ اس کی حقیقی لاگت 130 روپے ہو تو صرف سرکاری نرخ نامہ جاری کرنے سے
مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ بلكه اس سے ديگر بهت سے مفاسد پيدا هو جائيں گے۔ مثلا:
·
تاجر مال مارکیٹ سے غائب
کرسکتے ہیں،
·
بلیک مارکیٹ پیدا ہوسکتی
ہے،
·
غیر قانونی فروخت بڑھ سکتی
ہے،
·
معیار کم ہوسکتا ہے۔
لہٰذا قیمت مقرر کرتے وقت پیداواری لاگت، نقل و حمل،
ٹیکس، منڈی کے حالات اور مناسب منافع کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
اسلامی پرائس کنٹرول کا
مقصد تاجر کو تباہ کرنا نہیں بلکہ ظلم اور استحصال کو روکنا ہے۔
13۔ مصنوعی قلت اور بلیک مارکیٹ
جب حکومت قیمت کو ایک سطح
پر مقرر کرتی ہے لیکن حقیقی مارکیٹ قیمت اس سے بہت زیادہ ہوتی ہے تو بعض اوقات
بلیک مارکیٹ جنم لیتی ہے۔
اس مسئلے کا حل یہ نہیں کہ
صرف جرمانے بڑھا دیے جائیں، بلکہ حکومت کو:
·
رسد بڑھانی چاہیے۔
·
مصنوعی قلت ختم کرنی
چاہیے۔
·
ذخیرہ اندوزی کے خلاف کارروائی
کرنی چاہیے۔
·
سپلائی چین کو بہتر بنانا
چاہیے۔
·
مارکیٹ میں مسابقت بڑھانی
چاہیے۔
·
ضرورت مند طبقات کو براہِ
راست امداد دینی چاہیے۔
14۔ غریب طبقے کا تحفظ
اسلامی معاشی نظام میں صرف قیمتیں کم کرنا ہی مقصد نہیں
بلکہ کمزور طبقے کی قوتِ خرید کا تحفظ بھی اہم ہے۔ اگر کسی وجہ سے کسی چیز کی قیمت
کم نہیں کی جاسکتی تو ریاست متبادل طور پر
زکوٰۃ، صدقات، بیت المال، راشن سبسڈی، نقد امداد، سستی خوراک کے مراکز جیسے
اقدامات کے ذریعے کم آمدنی والے طبقے کی مدد کرسکتی ہے۔
اس طرح قیمتوں کے مسئلے کو
صرف انتظامی نہیں بلکہ فلاحی زاویے سے بھی حل کیا جاسکتا ہے۔
15۔ دولت كا عدم ارتكاز
اسلام میں زکوٰۃ محض عبادت نہیں بلکہ معاشی توازن کا بھی ایک اہم
ذریعہ ہے۔ اسي طرح مال فے كي تقسيم بھي معاشي توازن برقرار ركھنےاور دولت كو چند
لوگوں كے هاتھوں ميں مرتكز هونے كي بجائے معاشرے كے كمزور طبقات تك بھي پهنچے، قرآن
مجید فرماتا ہے:
كَيْ لَا
يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنْكُمْ. (الحشر: 7)
"تاکہ مال صرف
تمہارے مال داروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔"
اسلامی معاشی نظام کا مقصد
یہ ہے کہ دولت چند ہاتھوں میں مرتکز نہ ہوجائے بلکہ معاشرے کے کمزور طبقات بھی
بنیادی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہوں۔
16۔ پرائس کنٹرول اور آزاد منڈی میں توازن
ایک مؤثر اسلامی معاشی
پالیسی میں دو انتہاؤں سے بچنا ضروری ہے:
(الف) ریاست ہر چیز کی قیمت اپنی مرضی سے
مقرر کرے اور کاروباری آزادی ختم کردے۔
(ب) ریاست بازار کو مکمل طور پر بے لگام چھوڑ
دے، چاہے تاجر عوام کا استحصال کرتے رہیں۔
اسلامی نقطۂ نظر عدل اور
توازن کا تقاضا کرتا ہے۔ عام حالات میں تجارت اور قیمت کے تعین میں آزادی ہو، لیکن
جب ظلم، احتکار، دھوکہ، اجارہ داری، مصنوعی قلت، یا عوامی استحصال پیدا ہو تو
ریاست کو مداخلت کا حق بلکہ بعض حالات میں ذمہ داری حاصل ہوجاتی ہے۔
17۔ پرائس کنٹرول کی ناکامی کی وجوہ
پاکستان جیسے معاشروں میں
قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی کوششیں بعض اوقات اس لیے ناکام ہوجاتی ہیں کہ:
·
سرکاری نرخ زمینی حقائق سے
مطابقت نہیں رکھتے،
·
مارکیٹ مانیٹرنگ کمزور
ہوتی ہے،
·
رشوت اور بدعنوانی موجود
ہوتی ہے،
·
سپلائی چین میں کئی غیر
ضروری واسطے ہوتے ہیں،
·
ذخیرہ اندوزی کی بروقت نشاندہی
نہیں ہوتی،
·
مصنوعی قلت پیدا کرنے
والوں کے خلاف کارروائی مؤثر نہیں ہوتی،
·
پیداوار اور درآمدات کے
بارے میں پیشگی منصوبہ بندی نہیں ہوتی۔
لہٰذا پرائس کنٹرول کو صرف
انتظامی چھاپوں تک محدود کرنا درست حکمت عملی نہیں۔
18۔ ایک مؤثر اسلامی معاشی ماڈل
اسلامی اصولوں کی روشنی
میں مؤثر پرائس کنٹرول کا ایک جامع ماڈل درج ذیل ہوسکتا ہے:
پہلا مرحلہ: مارکیٹ کی
حقیقی صورت حال کا جائزہ۔
دوسرا مرحلہ: قیمت میں اضافے
کی اصل وجہ معلوم کرنا۔
تیسرا مرحلہ: مصنوعی قلت اور
ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ۔
چوتھا مرحلہ: پیداوار اور
رسد میں اضافہ۔
پانچواں مرحلہ: ناجائز اجارہ
داری اور گٹھ جوڑ کی روک تھام۔
چھٹا مرحلہ: مناسب اور
قابلِ عمل نرخ کا تعین۔
ساتواں مرحلہ: بازار کی مسلسل
نگرانی۔
آٹھواں مرحلہ: صارفین کے لیے
شکایات کا فوری نظام۔
نواں مرحلہ: غریب طبقے کے
لیے زکوٰۃ، بیت المال اور سماجی تحفظ کے پروگرام۔
دسواں مرحلہ: تاجروں کے جائز
حقوق کا تحفظ۔
یہی متوازن طریقہ قیمتوں
کو بھی منظم کرسکتا ہے اور بازار کی صحت مند سرگرمیوں کو بھی برقرار رکھ سکتا ہے۔
19۔ تاجر کے حقوق بھی اہم ہیں
اسلام صرف صارف کے حقوق کی
بات نہیں کرتا بلکہ تاجر کے حقوق کا بھی تحفظ کرتا ہے۔ اسلامي نظام معيشت ميں تاجر
کو جائز کاروبار، مناسب منافع، ملکیت، آزاد
تجارت، اور قانونی تحفظ کا حق حاصل ہے۔ لہٰذا ریاست کو ایسا نرخ مقرر نہیں کرنا
چاہیے جس سے جائز کاروبار عملاً ناممکن ہوجائے۔
حضرت عمرؓ کے منسوب مشہور
اصولی طرزِ حکمرانی میں عوامی مفاد اور عدل کو بنیادی حیثیت حاصل تھی۔ اسلامی فقہ
کا عمومی اصول بھی یہی ہے کہ نہ کسی پر ظلم کیا جائے اور نہ کسی کو ظلم کا موقع
دیا جائے۔
20۔ صارفین کی اخلاقی ذمہ داری
پرائس کنٹرول صرف حکومت
اور تاجروں کی ذمہ داری نہیں۔ صارفین کو بھی ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔
مثلاً:
·
ضرورت سے زیادہ خریداری نہ
کریں،
·
مصنوعی قلت پیدا نہ کریں،
·
افواہوں پر غیر ضروری
خریداری نہ کریں،
·
ذخیرہ اندوزی کی حوصلہ
افزائی نہ کریں،
·
ملاوٹ اور دھوکہ دہی کی
شکایت کریں،
·
جائز کاروبار کرنے والے
تاجروں کے ساتھ تعاون کریں۔
اگر عوام کسی چیز کی قلت
کی افواہ سن کر ضرورت سے کئی گنا زیادہ خریداری شروع کردیں تو وہ خود بھی قیمتوں
میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں اس لئے كه
عوام كي طلب كو ديكھ كر تاجر حضرات اشياء كي قيمتيں بڑھا ديتے هيں جيسا كئي بار مشاهدے
ميں آيا هے۔
21۔ تاجر برادری کی اخلاقی ذمہ داری
تاجر کو یہ سمجھنا چاہیے
کہ اس کا کاروبار صرف منافع کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشرے کی خدمت کا بھی ایک
ذریعہ ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
رَحِمَ اللَّهُ
رَجُلًا سَمْحًا إِذَا بَاعَ، وَإِذَا اشْتَرَى، وَإِذَا اقْتَضَى۔(صحیح البخاری)
"اللہ اس شخص پر
رحم فرمائے جو بیچتے وقت، خریدتے وقت اور اپنا حق طلب کرتے وقت نرمی اختیار کرے۔"
یہ حدیث تجارتی اخلاقیات
کا نہایت خوبصورت اصول پیش کرتی ہے۔ تاجر اگر دیانت، نرمی اور قناعت کے ساتھ
کاروبار کرے تو وہ معاشی سرگرمی کے ساتھ ساتھ معاشرتی خدمت بھی انجام دیتا ہے۔
22۔ پرائس کنٹرول دراصل عدلِ اجتماعی کا مسئلہ
ہے
مہنگائی کا سب سے بڑا بوجھ
غریب شخص اٹھاتا ہے۔ ایک صاحبِ ثروت شخص کے لیے آٹے، چاول یا گھی کی قیمت میں
معمولی اضافہ شاید بڑا مسئلہ نہ ہو، لیکن کم آمدنی والے گھرانے کے لیے یہی اضافہ
خوراک، تعلیم اور علاج میں سے کسی ایک ضرورت کو قربان کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اسی
لیے اسلام میں معاشی عدل کا مقصد صرف دولت پیدا کرنا نہیں بلکہ انسانی ضروریات کا
تحفظ بھی ہے۔
خلاصه كلام:
پرائس کنٹرول کو محض
سرکاری نرخ نامہ، جرمانے یا بازار میں چھاپوں کا نام دینا درست نہیں۔ یہ دراصل
معاشی عدل، عوامی فلاح، تجارتی اخلاقیات اور ریاستی ذمہ داریوں کا مجموعہ ہے۔
اسلام نے ایک طرف تجارت،
ملکیت اور منافع کے حق کو تسلیم کیا ہے، تو دوسری طرف احتکار، دھوکہ دہی، ناجائز
استحصال اور ظلم کو سختی سے منع کیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے عام حالات میں محض قیمت
بڑھنے کی بنیاد پر جبری نرخ مقرر کرنے سے احتیاط فرمائی، لیکن اسلامی فقہ کی
مجموعی تعلیمات سے یہ بھی واضح ہے کہ عوام کو ظلم اور استحصال سے محفوظ رکھنا
ریاست کی ذمہ داری ہے۔
لہٰذا ایک کامیاب پرائس
کنٹرول پالیسی کے لیے ضروری ہے کہ:
·
قیمتوں کی نگرانی ہو، مگر
تجارت کا گلا نہ گھونٹا جائے؛
·
تاجر کو منافع ملے، مگر
عوام کا استحصال نہ ہو؛
·
بازار آزاد ہو، مگر بے
لگام نہ ہو؛
·
ریاست مداخلت کرے، مگر غیر
ضروری مداخلت نہ کرے؛
·
اور غریب کو تحفظ ملے، مگر
معاشی سرگرمی مفلوج نہ ہو۔
مختصر یہ کہ اسلامی تصورِ پرائس کنٹرول کا بنیادی مقصد
قیمت کو مصنوعی طور پر کم کرنا نہیں بلکہ بازار میں عدل قائم کرنا، ظلم کا خاتمہ
کرنا اور معاشرے کے کمزور طبقات کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ یہی وہ متوازن
اصول ہے جس کے ذریعے ایک صحت مند، عادلانہ اور فلاحی معاشی نظام تشکیل دیا جاسکتا
ہے۔
