دنیا ایک امتحان گاہ
انسانی زندگی محض اتفاق یا بے مقصد وجود کا نام نہیں، بلکہ یہ
ایک باقاعدہ الٰہی منصوبے کے تحت عطا کی گئی آزمائش ہے۔ قرآنِ مجید بار بار اس
حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ دنیا امتحان گاہ ہے، جہاں انسان کے ایمان، نیت، اخلاق
اور اعمال کو جانچا جاتا ہے۔ یہی امتحان اس کے ابدی انجام—کامیابی یا ناکامی—کا
فیصلہ کرتا ہے ۔
دنیا کی حقیقت: عارضی مگر فیصلہ کن
قرآن کریم دنیا کی حیثیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
﴿وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا
إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ﴾(آلِ
عمران: 185)
دنیا نہ تو دائمی ٹھکانہ ہے اور نہ ہی اصل منزل، بلکہ یہ ایک
مختصر قیام گاہ ہے۔ جیسے امتحان ہال میں طالب علم کو محدود وقت دیا جاتا ہے، ویسے
ہی انسان کو دنیا میں ایک مقررہ مدت عطا کی گئی ہے۔ یہاں کی کامیابی یا ناکامی کے
اثرات مگر دائمی ہیں، جو آخرت میں ظاہر ہوں گے۔
انسان كي تخليق اور
آزمائش و ابتلاء
تخليق انسان اور اس كي آزمائش و ابتلاء كے متعلق قرآن كريم ميں
ارشاد باري تعالى هے:
﴿إِنَّا خَلَقۡنَا
ٱلۡإِنسَٰنَ
مِن نُّطۡفَةٍ
أَمۡشَاجٖ
نَّبۡتَلِيهِ
فَجَعَلۡنَٰهُ
سَمِيعَۢا
بَصِيرًا. إِنَّا هَدَيۡنَٰهُ
ٱلسَّبِيلَ
إِمَّا شَاكِرٗا وَإِمَّا كَفُورًا﴾(الدهر:2-3)
ترجمہ: بے شک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے پیدا کیا تاکہ ہم
اس کی آزمائش کریں، پھر ہم نے اسے سننے والا اور دیکھنے والا بنا دیا۔ بے شک ہم نے
اسے راستہ دکھا دیا، اب وہ خواہ شکر گزار بنے یا ناشکرا۔
آیت کے آغاز میں “نطفةٍ أمشاج” (ملے جلے نطفے) کا ذکر ہے، جس سے مراد مرد و
عورت کے اجزاء کا امتزاج ہے۔ یہ انسان کی ابتدا کی کمزوری اور عاجزی کو واضح کرتا
ہے۔ اس حقیر آغاز کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک عظیم مقصد کے لیے پیدا
فرمایا، اور وہ مقصد ہے آزمائش۔ یہ آزمائش محض جسمانی نہیں بلکہ عقیدہ، عمل، اخلاق
اور رویّوں کی بھی ہے۔
سماعت و بصارت: ذمہ داری کا شعور
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انسان کو سننے اور دیکھنے والا بنایا
گیا۔ یہ محض نعمتیں نہیں بلکہ ذمہ داریاں بھی ہیں۔
سماعت: حق بات سننے، نصیحت قبول
کرنے اور وحی کو سمجھنے کا ذریعہ
بصارت: کائنات میں اللہ کی
نشانیوں کو دیکھ کر عبرت حاصل کرنے کا وسیلہ
یوں انسان کو شعور عطا کر کے مکلف بنایا گیا۔
ہدایت کا راستہ اور انسانی اختیار
دوسری آیت میں فرمایا گیا کہ اللہ نے انسان کو راستہ دکھا دیا۔
یعنی:
· حق و باطل میں فرق واضح کر دیا
· خیر و شر کی تمیز عطا کر دی
· انبیاء، کتبِ آسمانی اور فطرتِ سلیمہ کے ذریعے
رہنمائی فراہم کر دی
اب فیصلہ انسان کے اختیار میں ہے کہ:
شاکر بنے: نعمتوں کو پہچانے، اطاعت اختیار کرے
یا کفور بنے: ناشکری کرے، انکار اور سرکشی کا راستہ اپنائے
ان دونوں آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ:
انسان ایک مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے
اسے عقل و شعور دے کر آزاد نہیں چھوڑا گیا بلکہ آزمائش میں ڈالا
گیا ہے
ہدایت فراہم کر دی گئی ہے، اب انجام انسان کے انتخاب پر موقوف
ہے
امتحان کا مقصد: احسنِ عمل كي جانچ
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿الَّذِي
خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا﴾
(الملک: 2)
وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ وہ تمہیں آزمائے
کہ تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا
کہ موت بھی مخلوق ہے اور زندگی بھی۔ یعنی زندگی کا آنا محض اتفاق نہیں، موت کا آ
جانا بھی بے مقصد نہیں، دونوں اللہ تعالیٰ کے حکم اور قدرت سے وابستہ ہیں، اور
دونوں انسان کے لیے ایک عظیم حکمت اور مقصد رکھتے ہیں۔
زندگی و موت کا مقصد: آزمائش
آیت میں فرمایا گیا: ﴿لِيَبْلُوَكُمْ﴾
یعنی زندگی اور موت کا بنیادی مقصد انسان کی آزمائش ہے۔
یہ آزمائش:
· مال و دولت سے
· صحت و بیماری سے
· عزت و ذلت سے
· زندگی کے ہر مرحلے سے
اور بالآخر موت کے ذریعے انجام تک پہنچتی ہے۔
کامیابی کا معیار: کثرت نہیں، حسنِ عمل
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ کون زیادہ عمل کرتا ہے بلکہ
فرمایا: ﴿أَيُّكُمْ
أَحْسَنُ عَمَلًا﴾ — کون
زیادہ بہتر عمل کرنے والا ہے۔
حسنِ عمل میں تین عناصر شامل ہیں:
نیت کا خالص ہونا،
طریقہ کار کا سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ہونا،
عمل کا اخلاقی و سماجی فائدہ رکھنا۔
حضرت فضیل بن عیاضؒ فرماتے ہیں: “عمل اس وقت تک قبول نہیں ہوتا جب تک وہ خالص
بھی نہ ہو اور درست بھی نہ ہو۔”
موت: آزمائش کا خاتمہ نہیں، مرحلہ
موت زندگی کی نفی نہیں بلکہ:ایک
مرحلے کا اختتام اور دوسرے مرحلے (آخرت) کی ابتدا ہے۔
لہٰذا یہ آیت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی دنیا کی
لمبی زندگی نہیں بلکہ بہتر اعمال ہیں جو موت کے بعد نجات کا سبب بنیں۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اعمال کی کثرت نہیں بلکہ
ان کا حسن مطلوب ہے۔
امتحان کے متنوع پرچے
دنیا کے امتحان میں ہر انسان کو الگ الگ سوالات دیے جاتے ہیں:
1 . مال و
دولت کا امتحان
﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا أَمْوَالُكُمْ
وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ﴾ (الأنفال:
28)
اور خوب جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد محض آزمائش ہیں۔
لفظ “فتنہ” کا مفہوم: عربی میں فتنہ کا مطلب ہے: آزمائش، امتحان، کسوٹی۔ جس
طرح سونے کو آگ میں ڈال کر خالص کیا جاتا ہے، اسی طرح انسان کو مال اور اولاد کے
ذریعے پرکھا جاتا ہے کہ وہ: شکر گزار بنتا ہے یا مغرور
، اللہ کے حکم کو مقدم رکھتا ہے یا دنیاوی محبت کو۔
مال: نعمت بھی، امتحان بھی، مال بذاتِ خود نہ اچھا ہے نہ برا،
بلکہ حلال طریقے سے کمانا، حلال میں خرچ کرنا،
زکوٰۃ، صدقات اور حقوق العباد ادا کرنا
یہ سب امتحان کے پہلو ہیں۔
مال انسان کو اللہ کی اطاعت سے غافل کر دے تو وہی مال فتنہ بن
جاتا ہے۔
اولاد:
آنکھوں کی ٹھنڈک یا آزمائش
اولاد انسان کے لیے محبت، خوشی اور امید کا سبب ہوتی ہے، لیکن اگر
اولاد کی محبت اللہ کے حکم پر غالب آ جائے یا ان کی خاطر حرام کو حلال سمجھ لیا
جائے تو یہی اولاد آزمائش بن جاتی ہے۔
قرآن میں اسی لیے تربیت اور دینی رہنمائی پر زور دیا گیا ہے۔
آیت کا تنبیہی انداز
لفظ “وَاعْلَمُوا” (جان لو) میں تنبیہ اور تاکید ہے، یعنی
مسلمان غفلت میں نہ رہیں بلکہ اس حقیقت کو ہر وقت پیشِ نظر رکھیں کہ:
اصل مقصد اللہ کی رضا ہے، دنیا کی ہر نعمت امتحان ہے۔
دوسري جگه قرآنِ مجید میں يهي مضمون اس طرح فرمایا :
﴿إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ
وَأَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ وَاللَّهُ عِندَهُ أَجْرٌ عَظِيمٌ﴾
(التغابن: 15)
خوب جان لو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد محض
آزمائش ہیں اور الله كے پاس اجر عظيم هے۔
یعنی مال و دولت اور اولاد محض ابتلا ء اور آزمائش كے لئے هيں
ان كي وجه سے انسان نه آخرت ميں كاميابي پاتا هے اور نه هي يه اخرت ميں كاميابي كے
ذريعے الا يه كه ان كے ذريعے نيكي كمائي جائے، دنيا ميں جس كو مال اور دولت اور
اولاد دي جائے يه بطور آزمائش هے بطور اجر و ثواب كے نهيں، اصل اجر اللہ کے پاس ہے، نہ کہ مال و اولاد میں۔
مال اللہ کی نعمت بھی ہے اور آزمائش بھی۔ حلال کمائی، جائز خرچ،
حقوق العباد کی ادائیگی اور سخاوت—یہ سب اس پرچے کے بنیادی سوالات ہیں۔
2 . فقر و
تنگی کا امتحان
تنگ دستی میں صبر، قناعت اور شکوہ سے اجتناب، انسان کے ایمان کی
مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔ قرآن صابرین کو اللہ کی معیت کی بشارت دیتا ہے۔
﴿وَلَنَبۡلُوَنَّكُم
بِشَيۡءٖ
مِّنَ ٱلۡخَوۡفِ
وَٱلۡجُوعِ
وَنَقۡصٖ
مِّنَ ٱلۡأَمۡوَٰلِ
وَٱلۡأَنفُسِ
وَٱلثَّمَرَٰتِۗ
وَبَشِّرِ ٱلصَّٰبِرِينَ﴾(سورۃ البقرۃ: آیت 155)
ترجمہ : اور ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے کچھ خوف سے، کچھ بھوک سے،
اور مالوں، جانوں اور پھلوں (پیداوار) کی کمی سے، اور (اے نبی!) صبر کرنے والوں کو
خوشخبری سنا دیجئے۔
آیت کا آغاز “وَلَنَبۡلُوَنَّكُم” سے ہوتا ہے، جس میں تاکید ہے کہ آزمائش آ کر
رہے گی۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ:
· مشکلات مومن کی زندگی کا لازمی حصہ ہیں
· آزمائش آنا اللہ کی ناراضی نہیں بلکہ سنتِ الٰہی ہے
آزمائش کی مختلف صورتیں، اللہ تعالیٰ نے آزمائش کی چند نمایاں
صورتیں گنوائیں:
· خوف: دشمن کا ڈر، مستقبل کی بے
یقینی، امن کا چھن جانا
· بھوک: معاشی تنگی، قحط، رزق میں
کمی
· مالوں کا نقصان: کاروبار،
روزگار یا جائیداد کا ضائع ہونا
· جانوں کا نقصان: بیماری،
حادثات، عزیزوں کی وفات
· پیداوار کی کمی: فصلوں،
باغات یا محنت کے نتائج میں کمی
یہ سب آزمائشیں انسان کے صبر، ایمان اور توکل کو پرکھنے کے لیے
ہیں۔
لفظ “بِشَيْءٍ” کی حکمت:
اللہ تعالیٰ نے فرمایا “بِشَيْءٍ” یعنی کچھ، اس میں یہ اشارہ ہے کہ: آزمائش پوری شدت سے نہیں
بلکہ محدود ہوتی ہے
اللہ اپنے بندوں کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔
صبر کرنے والوں کے لیے خوشخبری: آیت کے آخر میں فرمایا: ﴿وَبَشِّرِ
ٱلصَّٰبِرِينَ﴾
یعنی اصل کامیابی صبر میں ہے۔
صبر کا مطلب:
· شکوہ زبان پر نہ لانا
· اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا
· آزمائش میں بھی اطاعت کا دامن نہ چھوڑنا
اسی کے بعد اگلی آیات میں صابرین کی عظمت بیان کی گئی ہے کہ ان
پر اللہ کی رحمتیں اور ہدایت نازل ہوتی ہیں۔
3 . صحت و
بیماری کا امتحان
صحت شکر کا امتحان ہے اور بیماری صبر کا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
»عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ... إِنْ
أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ«
(صحیح مسلم)
مؤمن كا معامله بھي عجيب هے، اگر اس كو خوشي كا موقع ملے تو وه
شكر كرتا هے اور اگر اس كو كوئي تكليف پهنچے تو وه صبر كرتا هے۔
مطلب يه هے كه جب خوشي كا موقع هو تو شكر كرناچاهئے اور اگر
كوئي مصيبت يا تكليف پهنچے توصبر سے كام لينا چاهئے يهي اس كي آزمائش هے۔
4 . اختیار و
اقتدار کا امتحان
اختیار عدل، امانت اور خدمتِ خلق کا امتحان ہے۔ اقتدار اگر
تقویٰ کے ساتھ ہو تو نجات کا ذریعہ بنتا ہے، اور اگر نفس کی پیروی میں ہو تو ہلاکت
کا سبب۔
امتحان کے بنیادی اصول
· اخلاصِ نیت
ہر عمل کی قدر و قیمت نیت سے
متعین ہوتی ہے۔ ریاکاری امتحان کو ضائع کر دیتی ہے۔جيساكه نبي كريم ص نے فرمايا:
»إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ و
انما لكل امريء ما نوى« (بخاری،
مسلم)
اعمال کا
دارومدار نیتوں پر ہے۔ اور ہر شخص کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔"
یہ حدیثِ نبوی عمل کی قبوليت کے
لیے نیت کو بنیادی معیار قرار دیتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر عمل کا اجر، قبولیت
اور نتیجہ اس کی نیت پر منحصر ہوتا ہے۔ انسان کو اپنی نیت کے مطابق ہی جزا یا سزا
ملے گی۔ یہ حدیث اسلامی اخلاقیات اور قانون کی ایک بنیادی اساس ہے۔
· اتباعِ سنت
نیک نیت کے باوجود اگر عمل سنت کے خلاف ہو تو وہ مقبول نہیں۔
قبولیت کے لیے اخلاص اور اتباع دونوں لازم ہیں۔ يعني وه عم سنت نبوي كے مطابق هو۔
· صبر و شکر
صبر آزمائش میں اور شکر نعمت میں—یہ دونوں صفات مومن کی کامیابی
کی ضمانت ہیں۔
غفلت: ناکامی کی جڑ
دنیا کی چمک دمک میں کھو جانا اور آخرت کو فراموش کر دینا سب سے
بڑی ناکامی ہے۔ قرآن متنبہ کرتا ہے:
﴿اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ
وَهُمْ فِي غَفْلَةٍ مُّعْرِضُونَ﴾ (الأنبیاء:
1)
ترجمه:
" لوگوں کے لیے ان کا حساب قریب آپہنچا ہے، اور وہ
غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔"
غفلت انسان کو مقصدِ حیات سے دور کر دیتی ہے، اور یہی امتحان
میں ناکامی کا سبب بنتی ہے۔ اس آيت كريمه ميں انسانوں كو متنبه كيا گيا هے كه وه غفلت
ميں پڑے نه رهيں بلكه آزمائش پر پورا اترنے كے لئے سعي كريں اور اپنے مقصد تخليق كو
مد نظر ركھ كرآخرت كي تياري كريں۔
حقیقی کامیابی کا معیار
دنيا ميں كاميابي كے مختلف معيارات هيں، كچھ لوگ مال و دولت كو
كاميابي كا معيار سمجھتے هيں اور كچھ لوگ عهده اور منصب كو كاميابي تصوركرتے هيں
كچھ لوگ شهرت اور ناموري كوكاميابي سمجھتے هيں، اگر انساني زندگي كي حقيقت كو مد
نظر ركھ كر ديكھا جائے تو دنیاوی عروج، دولت یا شہرت کامیابی کا معیار نہیں۔ اصل
کامیابی یہ ہے:
﴿فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ
وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ﴾ (آلِ
عمران: 185)
جو شخص آخرت میں سرخرو ہو گیا، وہی حقیقی کامیاب ہے، خواہ دنیا
میں اس کی حالت کیسی ہی کیوں نہ رہی ہو۔
خلاصه كلام:
دنیا ایک ایسی امتحان گاہ ہے جہاں سوالات خاموش مگر مسلسل ہیں،
اور پرچہ ہر لمحہ حل ہو رہا ہے۔ نماز، معاملات، اخلاق، عبادات اور معاشرت—سب اسی
امتحان کے اجزاء ہیں۔ عقل مند وہ ہے جو ایمان، اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ زندگی
گزارے اور ہر عمل کو آخرت کی جواب دہی کے احساس سے انجام دے۔ یہی شعور انسان کو
دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے۔
