عالمی شہرت یافتہ باکسر محمد علی كلے (رحمہ
اللہ)
محمد علی: ایک عظیم باکسر، ایک بے خوف انسان،
اور ایک سچا مسلمان
بیسویں صدی کی تاریخ میں چند
شخصیات ایسی گزری ہیں جنہوں نے صرف اپنے فن میں ہی نہیں بلکہ فکر، کردار اور نظریے
میں بھی دنیا کو متاثر کیا۔ محمد علی انہی نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ایک تھے۔
وہ محض ایک باکسر نہیں تھے بلکہ نسلی امتیاز کے خلاف ایک توانا آواز، ضمیر کی
آزادی کا استعارہ، اور اسلام کے پیغامِ عدل و مساوات کے عملی علمبردار تھے۔
ابتدائی حالاتِ زندگی:
محمد علی کا اصل نام کیسیئس مارسیلس کلے جونیئر (Cassius Marcellus Clay Jr.) تھا۔
آپ 17 جنوری
1942ء کو لوئس ول، کینٹکی (امریکہ) میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے معاشرے سے
تھا جہاں سیاہ فام افراد کو شدید نسلی تعصب، معاشرتی ذلت اور قانونی امتیاز کا
سامنا تھا۔
ان کے والد ایک سائن بورڈ پینٹر تھے جبکہ والدہ ایک گھریلو
خاتون۔ بچپن ہی سے محمد علی نے امریکی معاشرے میں سیاہ فاموں کے ساتھ ہونے والی
ناانصافی، ذلت اور تحقیر کو قریب سے دیکھا، جس نے ان کی شخصیت میں مزاحمت، خودداری
اور جرات کو جنم دیا۔
باکسنگ کی دنیا میں قدم:
بارہ برس کی عمر میں جب ان کی سائیکل چوری ہوئی تو پولیس افسر جو
مارٹن سے ملاقات نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ مارٹن خود ایک باکسنگ کوچ تھے۔ یوں
محمد علی نے باکسنگ کی تربیت شروع کی اور بہت جلد اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا
لوہا منوا لیا۔
1960ء
کے روم اولمپکس میں انہوں نے گولڈ میڈل جیت کر عالمی سطح پر پہچان حاصل کی۔
امریکہ میں نسلی امتیاز اور ریاستی پابندیاں:
اگرچہ محمد علی ایک اولمپک ہیرو بن چکے تھے، مگر امریکہ واپس آ کر
انہیں احساس ہوا کہ تمغے کے باوجود وہ ایک سیاہ فام ہی تھے، جنہیں ہوٹلوں،
ریستورانوں اور سماجی زندگی میں وہی ذلت سہنی پڑتی تھی۔ یہی وہ تلخ حقیقت تھی جس
نے انہیں امریکی نظام پر کھل کر تنقید کرنے پر آمادہ کیا۔
انہوں نے بارہا کہا: "میں
امریکہ کے لیے لڑوں، جبکہ امریکہ نے مجھے کبھی برابر کا شہری تسلیم ہی نہیں کیا؟"
فوجی بھرتی سے انکار:
1967ء
میں امریکہ نے انہیں ویت نام جنگ کے لیے فوج میں شامل ہونے کا حکم دیا، مگر محمد
علی نے ضمیر اور مذہبی بنیادوں پر انکار کر دیا۔ انہوں نے تاریخی الفاظ کہے: "میرا
کوئی دشمن ویت نام میں نہیں، میرے دشمن یہاں ہیں جو مجھے انسان نہیں سمجھتے۔"
اس انکار کے نتیجے میں:
ان کا ورلڈ ہیوی ویٹ ٹائٹل چھین لیا گیا
باکسنگ پر تقریباً ساڑھے تین سال کی پابندی لگائی گئی
انہیں قید اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑا
یہ دور ان کی زندگی کا سخت ترین مگر سب سے باوقار دور تھا۔
اسلام قبول کرنے کا واقعہ:
محمد علی نے نوجوانی ہی میں روحانی بے چینی محسوس کرنا شروع کر
دی تھی۔ عیسائیت اور امریکی سماجی ڈھانچہ انہیں نسلی برتری، ظلم اور دوغلے پن کا
مجموعہ محسوس ہوتا تھا۔
Nation
of Islam سے تعارف:
1960ء
کی دہائی میں ان کا تعارف نیشن آف اسلام سے ہوا، جہاں انہیں پہلی مرتبہ یہ پیغام
ملا کہ: انسان رنگ سے نہیں، کردار
سے پہچانا جاتا ہے، اللہ کے نزدیک سب انسان برابر ہیں، رنگ اور نسل كي بنياد پر كسي
كو بھي كسي پر فوقيت حاصل نهيں، اگر فوقيت حاصل هے تو صرف تقوي اور پرهيز گاري كي
بنياد پر۔
اسلام قبول کرنا:
1964ء
میں انہوں نے اسلام قبول کیا اور اپنا نام بدل کر محمد علی رکھ لیا۔ انہوں نے
اعلان کیا: "کیسیئس
کلے غلاموں کا نام ہے، میں اب وہ نہیں رہا۔" بعد کے برسوں میں محمد علی نے ايك صحيح العقيده مسلمان بن كر خالص
اسلامی عقائد کو اپنایا اور پوری دنیا میں اسلام کی حقیقی تصویر پیش کی۔
اسلام اور محمد علی کی زندگی:
اسلام لانے كے بعد محمد علي كي زندگي يكسر بدل گئي وه اسلام كے
زرين اصولوں پر كاربند رهنے لگے ، وه اسلام كو هي اپنا اوڑھنا بچھونا بنايا چاهتے
تھے، امريكي معاشرے ميں پلنے بڑھنے والا يه عالمي شهرت يافته شخص جب دائره اسلام
ميں داخل هوا تو اس كي زندگي كا محور هي تبديل هو گيا، اب وه اسلامي اصولوں كي
پابندي كرنے لگا، اس كے اندر اسلامي اقدار كي پابندي كا جذبه همه وقت موجزن رهتا۔
اسلام نے محمد علی کو عاجزی، صبر، اخلاق، انسانیت سے محبت کا
سبق دیا۔ وہ کہا کرتے تھے: "میری سب
سے بڑی فتح باکسنگ نہیں، اسلام ہے۔"
انہوں نے دنیا بھر میں اسلام کے بارے میں پائے جانے والے غلط
تصورات کو توڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔
باکسنگ سے ریٹائرمنٹ:
محمد علی نے اپنی زندگی کے بہترین سال باکسنگ کے میدان میں
گزارے۔ طویل، سخت اور اعصاب شکن مقابلوں کے بعد 1981ء
میں انہوں نے باضابطہ طور پر باکسنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔
ریٹائرمنٹ کی بنیادی وجوہات میں شامل تھیں:
مسلسل مقابلوں کے باعث جسمانی کمزوری
اعصابی نظام پر شدید دباؤ
دماغی چوٹوں کے اثرات
ریٹائرمنٹ کے بعد محمد علی نے خود کو انسانی خدمت، فلاحی
سرگرمیوں اور اسلام کے پیغام کے لیے وقف کر دیا۔
پارکنسنز کی بیماری: صبر و استقامت کی مثال
1984ء
میں محمد علی میں پارکنسنز کی بیماری کی تشخیص ہوئی۔ یہ بیماری ان کے لیے ایک بہت
بڑی آزمائش تھی، کیونکہ وہ شخصیت جو کبھی گرجتی آواز اور بجلی جیسی رفتار کی علامت
تھی، اب خاموشی اور لرزش میں بدل رہی تھی۔
لیکن اس آزمائش میں بھی محمد علی شکوہ سے دور، شکر اور صبر کے
پیکر، اللہ پر کامل توکل رکھنے والے نظر آئے۔
وہ کہا کرتے تھے:"یہ
بیماری میرے لیے سزا نہیں، بلکہ اللہ کی طرف سے ایک امتحان ہے۔"
انسانیت کی خدمت اور عالمی سفارت:
بیماری کے باوجود محمد علی نے عالمی سطح پر امن، بھائی چارے اور
انسانیت کے پیغام کو عام کیا۔
اہم خدمات:
اقوامِ متحدہ کے امن سفیر کی حیثیت سے خدمات
افریقہ اور ایشیا میں فلاحی مشن
قیدیوں کی رہائی کے لیے ثالثی کردار
1996ء
کے اٹلانٹا اولمپکس میں مشعل روشن کرنے کا لمحہ ان کی عظمت، وقار اور صبر کا عالمی
مظہر تھا۔
وفات:
محمد علی 3 جون 2016ء کو ایریزونا،
امریکہ میں 74 برس کی
عمر میں وفات پا گئے۔
ان کی وفات پوری دنیا کے لیے ایک عظیم سانحہ اور مسلمانوں کے
لیے ایک قابلِ فخر باب کا اختتام
تھی۔
نمازِ جنازہ اور تدفین:
محمد علی کی نمازِ جنازہ لوئس وِل، کینٹکی میں ادا کی گئی، ہزاروں افراد نے شرکت کی، مختلف مذاہب، قوموں
اور نسلوں کے نمائندے موجود تھے۔ نمازِ جنازہ کی امامت معروف عالمِ دین امام زید
شاکر نے کی، جبکہ تدفین اسلامی طریقے کے مطابق کی گئی۔
نتیجہ اور فکری پیغام
محمد علی کی زندگی ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ:
اصل کامیابی طاقت میں نہیں، حق پر ڈٹ جانے میں ہے
شہرت سے بڑی چیز ضمیر کی آزادی ہے
اسلام رنگ، نسل اور قومیت سے بالاتر ہو کر انسان کو انسان بناتا
ہے
محمد علی نہ صرف باکسنگ کے بادشاہ تھے بلکہ حق گوئی، جرات اور
ایمان کے بھی شہنشاہ تھے۔
محمد علی کی زندگی کا آخری دور ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
اصل عظمت طاقت میں نہیں بلکہ صبر میں ہے
بیماری انسان کو کمزور نہیں بلکہ بلند کر دیتی ہے
اللہ کے فیصلے پر راضی رہنا ہی حقیقی کامیابی ہے
محمد علی صرف ایک سابق باکسر نہیں بلکہ: ضمیر کی آواز، ایمان کی مثال، اور
انسانیت کا سفیر تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے اور ان
کے درجات بلند فرمائے۔ آمین۔
