اصحابِ کہف
ایمان، ہجرت اور ربانی حفاظت کی ایک ہمہ گیر
داستان
قرآنِ مجید میں بیان ہونے والے واقعات محض تاریخ نہیں بلکہ
ہدایت کے زندہ نمونے هوتے ہیں۔ سورۂ کہف
میں مذکور اصحابِ کہف کا واقعہ نوجوان ایمان، فکری جرأت اور ربانی نصرت کا ایسا
درخشاں باب ہے جو ہر عہد کے اہلِ ایمان کو یہ سبق دیتا ہے کہ جب باطل غالب ہو جائے
اور حق دبنے لگے، تو اللہ پر اعتماد ہی اصل پناہ گاہ ہوتا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف ایمان کی قوت کو ظاہر کرتا ہے بلکہ زمان و مکان
پر اللہ کی مطلق قدرت اور عقیدۂ آخرت کی حقانیت کو بھی روزِ روشن کی طرح واضح کرتا
ہے۔
واقعه كا پس منظر:
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آسمان پر اٹھا لئے جانے کے بعد
عیسائیوں کا حال بے حد خراب اور نہایت ابتر ہو گیا۔ لوگ بت پرستی کرنے لگے اور
دوسروں کو بھی بت پرستی پر مجبور کرنے لگے۔ جو لوگ بت پرستي سے اجتناب كرتے تھے ان
كے ساتھ برا سلوك كياجاتا تھا، خصوصاً ان کا ایک بادشاہ ''دقیانوس''تو اس قدر ظالم
تھا کہ جو شخص بت پرستی سے انکار کرتا تھا یہ اُس کو قتل کرڈالتا تھا۔
اصحاب کہف (سات نوجوان) رومی شہنشاہ دقیانوس کے مذہبی ظلم
و ستم سے بچنے کے لیے ایمان بچانے کی خاطر اس غار میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے
تھے۔
بعض مؤرخين و مفسرين كے مطابق اصحابِ کہف شہر ''اُفسوس''کے
شرفاء تھے جو بادشاہ کے معزز درباری بھی تھے۔ مگر یہ لوگ صاحب ِ ایمان اور بت
پرستی سے انتہائی بیزار تھے۔ ''دقیانوس''کے ظلم و جبر سے پریشان ہو کر یہ لوگ اپنا
ایمان بچانے کے لئے اُس کے دربار سے بھاگ نکلے اور قریب کے پہاڑ میں ایک غار کے
اندر پناہ گزیں ہوئے اور سو گئے، تو تین سو برس سے زیادہ عرصے تک اسی حال میں سوتے
رہ گئے۔ دقیانوس نے جب ان لوگوں کو تلاش کرایا اور اُس کو معلوم ہوا کہ یہ لوگ غار
کے اندر ہیں تو وہ بے حد ناراض ہوا۔ اور فرط غیظ و غضب میں یہ حکم دے دیا کہ غار
کو ایک سنگین دیوار اُٹھا کر بند کردیا جائے تاکہ یہ لوگ اُسی میں رہ کر مرجائیں
اور وہی غار ان لوگوں کی قبر بن جائے۔ (بحواله تفسير خازن سوره كهف)
اصحابِ کہف کا تعلق کس علاقے سے تھا؟
قرآنِ مجید نے اصحابِ کہف کے مقام کا نام صراحتاً ذکر نہیں کیا،
تاہم مفسرین اور مؤرخین کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ان کا تعلق رومی سلطنت (Roman Empire) کے ایک شہر سے تھا۔
اصحاب کہف کا تعلق ایک قدیم شہر افسوس (جدید ترکی میں) سے تھا،
جو رومی ظلم سے بچنے کے لیے ایک غار میں پناہ گزین ہوئے تھے، اور یہ واقعہ تقریباً
250 عیسوی کے قریب پیش آیا، جس کے بعد وہ تقریباً 309 قمری سال تک سوتے رہے۔
شہر کا نام: اکثر مؤرخین کے مطابق، یہ
شہر افسوس (افسس) تھا، جو موجودہ ترکی کے شہر ازمیر سے تقریباً 20 میل
کے فاصلے پر واقع تھا۔ یہ رائے ابن کثیر، قرطبی، طبری اور دیگر مفسرین نے نقل کی
ہے۔
غار کا مقام: یہ غار شہر کے قریب ایک پہاڑ پر تھا، جس کے
دہانے پر ان کا کتا بھی موجود تھا۔
غار کا نام: بعض روایات میں اس غار کو "کہف
الرقیم" بھی کہا جاتا ہے، جو اردن میں ایک مقام ہے، جيسا كه مولانا ابو
الكلام آزاد نے اپني كتاب ميں اس كا ذكر كيا هے، لیکن تاریخی طور پر افسوس کا
علاقہ زیادہ مشہور ہے۔
بعض اقوال میں شام یا فلسطین کے اطراف کا ذکر بھی ملتا ہے، مگر
تاریخی و آثارِ قدیمہ کے لحاظ سے افسس کی رائے زیادہ مضبوط سمجھی جاتی ہے۔ افسس
اس زمانے میں بت پرستی اور رومی مذہبی اقتدار کا بڑا مرکز تھا۔
بادشاہِ وقت اور فتنۂ شرک
تواريخ اور تفاسیر کے مطابق اس دور میں ایک ظالم مشرک بادشاہ
حکومت کرتا تھا، جسے اکثر مفسرین نے دقیانوس
(Decius) کے نام سے ذکر کیا ہے۔ یہ بادشاہ:
بت پرستی کو سرکاری مذہب قرار دیتا تھا،
جبرا بت پرستي كراتا تھا اور جو انكار كر تا اسے سزا ديتا تھا
توحید پر ایمان رکھنے والوں کو سخت سزائیں دیتا تھا
نوجوانوں کو خاص طور پر اپنے مذہبی نظام میں جکڑنا چاہتا تھا
ایسے جبر کے ماحول میں اصحابِ کہف جیسے نوجوانوں کا ایمان لانا
بغاوت سمجھا جاتا تھا۔
اصحابِ کہف: نوجوان مگر فولادی ایمان
قرآن انہیں فِتۡيَةٌ
(نوجوان) کہتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ وہ:عمر
میں کم مگر شعور، یقین اور غیرتِ ایمانی میں بلند تھے
إِنَّهُمۡ
فِتۡيَةٌ
ءَامَنُواْ بِرَبِّهِمۡ
وَزِدۡنَٰهُمۡ
هُدٗى.(سورۂ کہف: 13)
كها جاتا هے یہ نوجوان شاہی خاندان یا معزز طبقے سے تعلق رکھتے
تھے، بعض كهتے هيں كه يه لوگ شاهي دربار سے تعلق ركھتے تھے، دنیاوی آسائشیں چھوڑ
کر حق کے راستے پر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے علی الاعلان کہاكه هماري قوم نے الله
تعالي كا راسته چھوڑ كر بت پرستي كا راسته اختيار كيا هے جو كه سراسر گمراهي هے :
هَٰٓؤُلَآءِ قَوۡمُنَا
ٱتَّخَذُواْ
مِن دُونِهِۦٓ
ءَالِهَةٗ. يعني “یہ ہماری قوم ہے جس نے
اللہ کے سوا معبود بنا لیے ہیں۔”(سورۂ کہف: 15)
شہر سے نکلنے کا فیصلہ: ہجرت فی اللہ
جب بادشاہ نے انہیں ایمان سے پھرانے یا قتل کرنے کی دھمکی دی تو
انہوں نے ایمان کی حفاظت کو ترجیح دی اور شہر چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔ یہی وہ لمحہ
تھا جب دنیا کی راحتیں پیچھے رہ گئیں اور اللہ کی رضا منزل بن گئی۔ چنانچه انهوں
نے بت پرستي كي دنيا سے كٹ كر اپنے دين
اور ايمان كي حفاطت كے لئے ايك غار ميں پناه لينے كا فيصله كيا جيسا كه قرآن كريم
ميں هے:
ﵟوَإِذِ ٱعۡتَزَلۡتُمُوهُمۡ وَمَا يَعۡبُدُونَ
إِلَّا ٱللَّهَ فَأۡوُۥٓاْ إِلَى ٱلۡكَهۡفِ يَنشُرۡ لَكُمۡ رَبُّكُم مِّن
رَّحۡمَتِهِۦ وَيُهَيِّئۡ لَكُم مِّنۡ أَمۡرِكُم مِّرۡفَقٗاﵞ (سورۃ الکہف: 16)
ترجمہ: “اور (اے ساتھیو!) جب
تم ان لوگوں سے اور اللہ کے سوا جن کی وہ عبادت کرتے ہیں ان سب سے الگ ہو چکے ہو،
تو غار کی طرف پناہ لے لو۔ تمہارا رب اپنی رحمت تم پر پھیلا دے گا اور تمہارے
معاملے میں تمہارے لیے آسانی اور سازگاری کا سامان مہیا فرما دے گا۔”
انہوں نے غار میں داخل
ہو کر دعا کی:
رَبَّنَآ ءَاتِنَا مِن لَّدُنكَ رَحۡمَةٗ
وَهَيِّئۡ
لَنَا مِنۡ
أَمۡرِنَا
رَشَدٗا. (سورۂ کہف: 10)
ترجمہ: “اے ہمارے رب! ہمیں اپنے
حضور سے خاص رحمت عطا فرما، اور ہمارے معاملے میں ہمارے لیے درست راہ اور بھلائی
کا سامان مہیا فرما دے۔”
یہ دعا توحید، عاجزی اور توکل کا شاہکار نمونہ ہے، ان نو جوانوں
ميں مشكل وقت ميں جهاں وه الله كي خاطر اپنے گھر بار چھوڑے وهيں انهوں ميں ايسے
وقت ميں صرف الله تعالى سے دعا كي كه ان كے معاملات كو درست فرمائے اور ان كے لئے درست
راه مهيا كرے۔
غار میں داخلہ اور ربانی انتظام
جونہی وہ غار میں داخل ہوئے، اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت
سےانہیں گہری نیند سلا دیا، ان کے جسموں کو محفوظ رکھا، سورج کی روشنی کو اس طرح
موڑا کہ نقصان نہ ہو۔ لوگ انهيں ديكھے تو يه خيال كرے كه يه لوگ جاگ رهے هيں تاكه
كوئي ان كو نقصان نه پهچا سكيں۔ قرآن مجيد
ميں ان كي حالت يوں بيان فرمائي هے:
وَتَحۡسَبُهُمۡ
أَيۡقَاظٗا
وَهُمۡ
رُقُودٞ.يعني “تم انہیں جاگتا سمجھتے،
حالانکہ وہ سو رہے تھے۔” (سورۂ کہف: 18)
یہ نیند:300 سال + 9
سال تک جاری رہی، قمری و شمسی سال کے فرق کی طرف بھی اشارہ ہے۔ (سورۂ کہف: 25)
كها جاتا هے دقیانوس نے جس شخص کے سپرد یہ کام کیا تھا كه غار كا دهانه بند كردے وہ بہت ہی نیک دل اور
صاحب ِ ایمان آدمی تھا۔ اُس نے اصحاب ِکہف کے نام اُن کی تعداد اور اُن کا پورا
واقعہ ایک تختی پر کندہ کرا کر تانبے کے صندوق کے اندر رکھ کر دیوار کی بنیاد میں
رکھ دیا۔ اور اسی طرح کی ایک تختی شاہی خزانہ میں بھی محفوظ کرادی۔ کچھ دنوں کے
بعد دقیانوس بادشاہ مر گیا اور سلطنتیں بدلتی رہیں۔
الله تعالى نے ان كے جسموں كو محفوظ ركھنے اور سورج كي تمازت سے
بچانے كا بھي اهتمام كيا جيسا كه مذكوره سوره ميں ارشاد هوا هے:
ﵟ وَتَرَى ٱلشَّمۡسَ إِذَا طَلَعَت تَّزَٰوَرُ عَن
كَهۡفِهِمۡ ذَاتَ ٱلۡيَمِينِ وَإِذَا غَرَبَت تَّقۡرِضُهُمۡ ذَاتَ ٱلشِّمَالِ
وَهُمۡ فِي فَجۡوَةٖ مِّنۡهُۚ ذَٰلِكَ مِنۡ ءَايَٰتِ ٱللَّهِۗ مَن يَهۡدِ ٱللَّهُ
فَهُوَ ٱلۡمُهۡتَدِۖ وَمَن يُضۡلِلۡ فَلَن تَجِدَ لَهُۥ وَلِيّٗا مُّرۡشِدٗاﵞ (سورۃ الکہف: 17)
ترجمہ: “اور تم دیکھتے کہ جب سورج طلوع ہوتا تو ان کے غار سے
دائیں طرف کو جھک جاتا، اور جب غروب ہوتا تو ان سے بائیں طرف کو کتراتا ہوا گزر
جاتا، جبکہ وہ غار کے ایک کھلے حصے میں (آرام سے) تھے۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے
ہے۔ جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ چھوڑ دے، تو تم اس کے
لیے کوئی کارساز اور رہنماء نہیں پاؤ گے۔”
اس آیت میں اصحابِ
کہف پر اللہ تعالیٰ کی خاص حفاظت اور ربانی تدبیر کو بیان کیا گیا ہے۔ مفسرین کے
مطابق سورج کا اس طرح غار سے دائیں اور بائیں جانب سے گزر جانا اس بات کی علامت ہے
کہ:
- سورج کی تیز دھوپ ان کے جسموں پر براہِ راست نہیں
پڑتی تھی
- اس سے ان کے جسم محفوظ رہے، نہ جلنے کا خطرہ ہوا اور
نہ ہی گلنے سڑنے کا
- ساتھ ہی غار میں ہوا اور روشنی کی مناسب آمدورفت
برقرار رہی
تفسیری روایات کے
مطابق:
- غار کا دہانہ غالباً شمال یا شمال مشرق کی سمت تھا
- اسی سمت کی وجہ سے سورج کی شعاعیں صبح کے وقت دائیں
طرف سے اور شام کے وقت بائیں طرف سے گزرتی تھیں
- غار کے اندر ایک کشادہ جگہ (فَجْوَة) تھی، جہاں
اصحابِ کہف محفوظ حالت میں تھے
یہ جغرافیائی ترتیب
ایسی تھی کہ:
- نہ سورج کی حدّت براہِ راست پہنچتی
- نہ مکمل تاریکی ہوتی
- بلکہ ایک معتدل، محفوظ اور حیات بخش ماحول قائم رہتا
یہ پہلو اس حقیقت کی
طرف رہنمائی کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قدرتی اسباب کو بھی ایمان والوں کی حفاظت
کے لیے مسخر فرما دیا۔
یہ سب کچھ محض طبعی
اتفاق نہیں بلکہ اللہ کی خاص تدبیر اور معجزانہ حفاظت تھی، جسے قرآن نے صراحتاً “ذٰلِكَ
مِنۡ
ءَايَٰتِ ٱللَّهِ”
فرمایا۔
اصحاب كهف كا غارميں
قيام كي مدت:
قرآن مجيدميں الله
تعالى نے فرمايا كه وه تين سو سال اور مزيد نو سال تك قيام پذير رهے جيسا كه ارشاد
هے:
ﵟوَلَبِثُواْ
فِي كَهۡفِهِمۡ ثَلَٰثَ مِاْئَةٖ سِنِينَ وَٱزۡدَادُواْ تِسۡعٗا ﵞ (سورۃ الکہف: 25)
“اور وہ اپنے غار میں
تین سو سال ٹھہرے رہے، اور (اس پر) نو سال اور بڑھ گئے۔”
اس آیت میں اصحابِ کہف کے غار میں قیام کی مدت کو واضح الفاظ میں بیان کیا
گیا ہے۔ مفسرین کے مطابق:
- تین سو سال سے مراد شمسی (Solar) سال ہیں
- نو سال کا اضافہ قمری (Lunar) سالوں کے فرق کی طرف اشارہ ہے
کیونکہ: 300
شمسی سال = 309 قمری سال هوتا هے۔ یوں قرآنِ مجید نے نہایت
مختصر مگر نہایت دقیق انداز میں دونوں تقاویم (شمسی و قمری) کے فرق کو سمو دیا، جو
اس کے اعجازِ علمی کا مظہر ہے۔
اس آیت سے یہ حقیقت
واضح ہوتی ہے کہ:
- اللہ تعالیٰ کے لیے زمانہ اور وقت کی حدود بے معنی
ہیں
- انسان کے لیے جو مدت طویل اور ناقابلِ تصور ہے، وہ
اللہ کے حکم سے ایک لمحے کی مانند ہو سکتی ہے
یہ آیت اصحابِ کہف کے
واقعے کو محض تاریخی واقعہ نہیں رہنے دیتی، بلکہ اسے بعث بعد الموت (مرنے کے بعد
دوبارہ زندہ کیے جانے) پر ایک واضح دلیل بنا دیتی ہے۔
بیداری: وقت کے پردے کا اٹھ جانا:
كافي مدت كے بعد افسس
كي تخت پر ایک نیک دل اور انصاف پرور
بادشاہ جس کا نام ''بیدروس'' تھا، تخت نشین ہوا جس نے اڑسٹھ سال تک بہت شان و شوکت
کے ساتھ حکومت کی۔ اُس کے دور میں مذہبی فرقہ بندی شروع ہو گئی اور بعض لوگ مرنے
کے بعدجي اُٹھنے اور قیامت کا انکار کرنے لگے۔ قوم کا یہ حال دیکھ کر بادشاہ رنج و
غم میں ڈوب گیا اور وہ تنہائی میں ایک مکان کے اندر بند ہو کر خداوند قدوس عزوجل
کے دربار میں نہایت بے قراری کے ساتھ گریہ و زاری کر کے دعائیں مانگنے لگا کہ یا
اللہ عزوجل کوئی ایسی نشانی ظاہر فرما دے تاکہ لوگوں کو مرنے کے بعد زندہ ہو کر
اٹھنے اور قیامت کا یقین ہوجائے۔
بادشاہ کی دعا قبول ہو گئی اور ايك دن بکریوں کے ایک
چرواہے نے اپنی بکریوں کو ٹھہرانے کے لئے اسی غار کو منتخب کیا اور دیوار کو گرا
دیا۔ دیوار گرتے ہی اس پر ایسی ہیبت و دہشت سوار ہو گئی کہ دیوار گرانے والے لرزہ
براندام ہو کر وہاں سے بھاگ گيا اور اصحابِ کہف بحکم الٰہی اپنی نیند سے بیدار ہو
کر اٹھ بیٹھے ۔
جب اللہ نے انہیں بیدار کیا تو انہیں گمان ہوا کہ صرف ایک دن یا
دن کا کچھ حصہ سوئے ہیں، انهيں بھوک محسوس
ہوئی تو انهوں نے اپنے ایک ساتھی کو کھانا
لینے شہر بھیجا ، كها جاتا هے اس كا نام " یملیخا"تھا
اس سے کہا کہ تم بازار جا کر کچھ کھانا لاؤ اور نہایت خاموشی سے بات كرنا كهيں كسي
كو همارے بارے ميں علم نه هو اور یہ بھی معلوم کرو کہ ''دقیانوس''ہم لوگوں کے بارے
میں کیا ارادہ رکھتا ہے؟
''یملیخا''غار
سے نکل کر بازار گئے اور یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ شہر میں كے حالات اور مكانات اور عمارات ميں كافي
تبديلياں آئي هيں اور پرانے وقتوں جيسا كوئي حالات نهيں هيں مگر اصل صورت حال سے
وه نا واقف تھا چنانچه جب وه ایک نانبائی
کی دکان پر کھانا لینے گئے اور دقیانوسی زمانے کا روپیہ دکاندار کو دیا جس کا چلن
بند ہوچکا تھا ۔پرانے زمانے كے سكے كو ديكھ كر دکاندار کو شبہ ہوا کہ شاید اس شخص
کو کوئی پرانا خزانہ مل گیا ہے چنانچہ دکاندار نے ان کو حکام کے سپرد کردیا اور
حکام نے ان سے خزانے کے بارے میں پوچھ گچھ شروع کردی اور کہا کہ بتاؤ خزانہ کہاں
ہے؟
''یملیخا''
نے کہا کہ کوئی خزانہ نہیں ہے۔ یہ ہمارا ہی روپیہ ہے۔ حکام نے کہا کہ ہم کس طرح
مان لیں کہ روپیہ تمہارا ہے؟ یہ سکہ تین سو برس پرانا ہے اور برسوں گزر گئے کہ اس
سکہ کا چلن بند ہو گیا اور تم ابھی جوان ہو۔ لہٰذا صاف صاف بتاؤ کہ معامله كيا هے۔
یہ سن کریملیخا نے کہا: کہ تم لوگ یہ بتاؤ کہ دقیانوس بادشاہ کا کیا حال ہے؟
حکام نے کہا کہ آج روئے زمین پر اس نام کا کوئی
بادشاہ نہیں ہے۔ ہاں سینکڑوں برس گزرے کہ اس نام کا ایک بے ایمان بادشاہ گزرا ہے
جو بت پرست تھا۔
حقیقت کھل گئي:
''یملیخا'' كو جب اندازه هوا كه بتائے بنا كوئي چاره نهيں
هے تو اس نے کہا کہ ابھی کل ہی تو ہم لوگ اس کے خوف سے اپنے ایمان اور جان کو بچا
کر بھاگے ہیں۔ میرے ساتھی قریب ہی کے ایک غار میں موجود ہیں۔ تم لوگ میرے ساتھ چلو
میں تم لوگوں کو اُن سے ملادوں۔ چنانچہ حکام اور عمائدین شہر کثیر تعداد میں اُس
غار کے پاس پہنچے۔ اصحاب ِ کہف ''یملیخا'' کے انتظار میں تھے۔ جب ان کی واپسی میں
دیر ہوئی تو اُن لوگوں نے یہ خیال کرلیا کہ شاید یملیخا گرفتار ہو گئے اور جب غار
کے منہ پر بہت سے آدمیوں کا شور و غوغا ان لوگوں نے سنا تو سمجھ بیٹھے کہ غالباً
دقیانوس کی فوج ہماری گرفتاری کے لئے آن پہنچی ہے۔ تو یہ لوگ نہایت اخلاص کے ساتھ
ذکر ِ الٰہی اور توبہ و استغفار میں مشغول ہو گئے۔
حکام
نے غار پر پہنچ کر تانبے کا صندوق برآمد کیا اور اس کے اندر سے تختی نکال کر پڑھا
تو اُس تختی پر اصحاب ِ کہف کا نام لکھا تھا اور یہ بھی تحریر تھا کہ یہ مومنوں کی
جماعت اپنے دین کی حفاظت کے لئے دقیانوس بادشاہ کے خوف سے اس غار میں پناہ گزیں
ہوئی ہے۔ تو دقیانوس نے خبر پا کر ایک دیوار سے ان لوگوں کو غار میں بند کردیا ہے۔
ہم یہ حال اس لئے لکھتے ہیں کہ جب کبھی بھی یہ غار کھلے تو لوگ اصحاب ِ کہف کے حال
پر مطلع ہوجائیں۔ حکام تختی کی عبارت پڑھ کر حیران رہ گئے۔ اور ان لوگوں نے اپنے
بادشاہ ''بیدروس'' کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ فوراً ہی بید روس بادشاہ اپنے امراء
اور عمائدین شہر کو ساتھ لے کر غار کے پاس پہنچا تو اصحاب ِ کہف نے غار سے نکل کر
بادشاہ سے ملے اور اپنی سرگزشت بیان کی۔ بیدروس بادشاہ سجدہ میں گر کر خداوند قدوس
کا شکر ادا کرنے لگا کہ میری دعا قبول ہو گئی اور اللہ تعالیٰ نے ایسی نشانی ظاہر
کردی جس سے موت کے بعد زندہ ہو کر اُٹھنے کا ہر شخص کو یقین ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ
نے ان کے واقعے کو ظاہر کر دیا تاکہ: لِيَعۡلَمُوٓاْ
أَنَّ وَعۡدَ
ٱللَّهِ
حَقّٞ. (سورۂ کہف: 21)
يعني “تاکہ وہ جان لیں کہ بے شک اللہ کا وعدہ سچا ہے۔” اور
الله تعالى نے لوگو ں كو اس كا مشاهده كرايا۔
كها جاتا هے كه اصحاب ِ کہف نے بادشاہ کو دعائیں اور انهيں السلام علیکم کہا
اور غار کے اندر چلے گئے اور سو گئے اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو
وفات دے دی۔ بادشاہ بیدروس نے سال کی لکڑی کا صندوق بنوا کر اصحابِ کہف کی مقدس
لاشوں کو اس میں رکھوا دیا اور اللہ تعالیٰ نے اصحاب ِ کہف کا ایسا رعب لوگوں کے
دلوں میں پیدا کردیا کہ کسی کی یہ مجال نہیں کہ غار کے منہ تک جا سکے۔
اس طرح اصحاب ِ کہف کی لاشوں کی حفاظت کا اللہ
تعالیٰ نے سامان کردیا۔ ان كي وفات كے بعد
غار پر عمارت كي تعمير كے سلسلے ميں ان كے درميان اختلاف هوا كه اس پر ياد گار كے
طور پر كيا تعمير كيا جائے ، پھر بیدروس بادشاہ نے غار کے منہ پر ایک مسجد بنوا دی
اور سالانہ ایک دن مقرر کردیا کہ تمام شہر والے اس دن عید کی طرح زیارت کے لئے آیا
کریں۔ جس كي طرف الله تعالى نے سوره كهف ميں يوں ارشاد فرمايا هے:
ﵟقَالَ ٱلَّذِينَ غَلَبُواْ عَلَىٰٓ أَمۡرِهِمۡ لَنَتَّخِذَنَّ
عَلَيۡهِم مَّسۡجِدٗا ﵞ (سورۂ کہف: 21)
ترجمہ:“جن لوگوں کا اس معاملے پر
غلبہ تھا، انہوں نے کہا: ہم ان (اصحابِ کہف) کے مقام پر ضرور ایک مسجد قائم کریں
گے۔”
جب اصحابِ کہف کا واقعہ ظاہر ہوا اور لوگ ان کی حقیقت سے آگاہ
ہو گئے تو ان کے انجام اور مقام کے بارے میں مختلف آراء سامنے آئیں۔ کچھ لوگوں نے
کہا کہ ان پر ایک یادگار تعمیر کر دی جائے تاکہ نشان باقی رہے، مگر اہلِ اقتدار
اور صاحبِ اثر افراد—جو اس وقت غالب تھے—نے یہ
رائے دی کہ ان کے مقام پر عبادت گاہ (مسجد) قائم کی جائے۔
اہم اسباق و پیغام: اس
واقعے سے هميں جو سبق ملتا هے وه يه هے كه:
نوجوانی میں ایمان سب سے بڑی قوت ہے
حق کے لیے ہجرت اللہ کے نزدیک عظیم عمل ہے
اللہ جس کی حفاظت فرمائے، زمانہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا
قیامت اور دوبارہ زندگی برحق ہے
ظاہری کمزوری کے باوجود اہلِ ایمان سرخرو ہوتے ہیں
جب معاشرہ ایمان پر تنگ ہو جائے، جب حق بولنا جرم بن جائے،
تو اللہ کی طرف ایک قدم تین سو سالہ نیند کو بھی عبادت بنا دیتا
ہے۔
یہ داستان ہر اس نوجوان کے لیے پیغام ہے جو فتنوں کے دور میں سچ
کے ساتھ کھڑا ہونا چاہتا ہے۔
مراجع و مصادر:
القرآن الکریم، سورۂ کہف: آیات 9–26
تفسیر القرآن العظيم از علامه اسماعيل بن عمر ابن کثیر الدمشقي،
تفسیر قرطبی، الجامع لاحكام القرآن، امام قرطبي
تفسیر طبری، جامع البيان
تفسير خازن، ابو الحسن علي بن محمد الخازن الدمشقي
مدارك التنزيل و حقائق التاويل ، ابو البركات النسفي
معارف القرآن، مفتی محمد شفیعؒ
البدایہ والنہایہ، ابن کثیر
اصحاب كهف از مولانا ابو الكلام آزاد
