خلافتِ راشدہ کی خصوصیات
اسلامی تاریخ کا درخشاں ترین باب خلافتِ راشدہ ہے، جسے رسول
اللہ ﷺ نے خود “خلافت علی منہاج النبوۃ” قرار دیا۔ یہ دور تقریباً تیس سال (11ھ تا
40ھ) پر مشتمل ہے، جس میں چار جلیل القدر خلفاء—حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ،
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ، حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ، اور حضرت علی المرتضیٰ
رضی اللہ عنہ—نے قیادت کی۔
رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: "عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي
وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ" (سنن ابی داود، حدیث: 4607)
تم اپنے اوپر میری سنت کو لازم پکڑو، اور میرے بعد آنے والے
ہدایت یافتہ راشد خلفاء کے طریقے کو بھی مضبوطی سے تھامے رکھو۔"
یہی وجہ ہے کہ خلافتِ راشدہ اسلامی نظامِ حکومت کا مثالی نمونہ
سمجھی جاتی ہے۔
1 . نظامِ
خلافت کی بنیاد: شوریٰ اور رضائے عامہ
خلافتِ راشدہ کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ حکمران کا
انتخاب مشاورت (شوریٰ) سے ہوتا تھا، نہ کہ موروثیت یا جبر سے۔
قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ
بَيْنَهُمْ" (سورۃ الشوریٰ: 38)
يعني ان كے معاملات باهمي مشاورت سے طے پاتے هيں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب سقیفہ بنی ساعدہ میں
باہمی مشاورت سے ہوا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکرؓ نے نامزد کیا مگر
امت کی تائید بھی حاصل کی گئی۔
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا انتخاب چھ رکنی شوریٰ کے ذریعے
ہوا۔
یہ نظام آج کے جمہوری اصولوں سے بھی زیادہ اخلاقی اور ذمہ
دارانہ تھا۔
2 . قرآن
و سنت کی کامل بالادستی
خلافتِ راشدہ میں قانون سازی کا واحد سرچشمہ قرآن و سنت تھا۔
قرآن کا حکم ہے: "فَإِن
تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ" (سورۃ
النساء: 59)
ترجمہ: "پھر اگر
تم کسی چیز میں اختلاف کرو تو اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔"
یہ آیت اسلامی نظامِ حیات کا ایک بنیادی اصول بیان کرتی ہے:
جب مسلمانوں کے درمیان کسی معاملے میں اختلاف پیدا ہو جائے، تو
اس کا فیصلہ ذاتی رائے، خواہش یا رسم و رواج کی بنیاد پر نہیں ہونا چاہیے۔
بلکہ اس مسئلے کو اللہ (یعنی قرآن) اور رسول ﷺ (یعنی سنت و
حدیث) کی طرف رجوع کر کے حل کرنا ضروری ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن و سنت ہی آخری اور حتمی معیارِ حق
ہیں۔ اسلامی معاشرے میں اتحاد اور نظم اسی وقت قائم رہ سکتا ہے جب فیصلے الہامی
ہدایت کے مطابق ہوں۔ يهي وجه هے كه اسلامي تاريخ
ميں عهد خلافت راشده ميں باهمي اختلافات كي صورت ميں قرآن اور سنت كي طرف
رجوع كيا جاتا تھا اس لئے صحابه كرام كے درميان انتشار نهيں بلكه اتحاد اور يكجهتي
پائي جاتي تھي۔
یہ آیت دراصل اس بات کی تعلیم دیتی ہے کہ اختلاف فطری ہے، مگر اس
کا حل بھی اللہ نے واضح کر دیا ہے—یعنی وحی کی طرف رجوع۔ یہی اصول خلافتِ
راشدہ کے نظامِ عدل اور حکمرانی کی بنیاد تھا۔
خلیفہ خود کو شریعت کا پابند سمجھتا تھا۔ کسی بھی فیصلے میں
ذاتی رائے کو قرآن و حدیث پر مقدم نہیں کیا جاتا تھا۔
3 . عدل
و انصاف کا بے مثال نظام
خلافتِ راشدہ کا نظامِ عدل تاریخِ عالم میں اپنی مثال آپ ہے۔ رسول
اللہ ﷺ عدل كي اهميت بيان كرتے هوئے فرمایا:
"إِنَّمَا
أَهْلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ... أَنَّهُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيهِمُ
الشَّرِيفُ تَرَكُوهُ..." (صحیح
بخاری، حدیث: 6788)
نمایاں خصوصیاتِ
نظامِ عدل
ا . مساواتِ
کامل: قانون کی نظر میں سب برابر تھے، خواہ خلیفہ ہو یا عام شہری۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ ایک یہودی کے ساتھ زرہ (armor) کے مقدمے میں قاضی کے سامنے پیش
ہوئے۔ قاضی نے گواہ نہ ہونے کی بنا پر فیصلہ یہودی کے حق میں دیا۔ (بیہقی، السنن الکبریٰ)
ب . حکمران
کا احتساب: خلیفہ خود بھی قانون کے تابع ہوتا تھا اور عوام کو سوال کا حق حاصل
تھا۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کے لباس
کا کپڑا زیادہ کیوں ہے؟ آپؓ نے اپنے بیٹے کی وضاحت کے بعد جواب دیا۔
(ابن
کثیر، البدایہ والنہایہ)
ج . عدلیہ کی
آزادی: قاضی مکمل طور پر آزاد ہوتے تھے اور خلیفہ بھی ان کے فیصلوں کا پابند ہوتا
تھا۔ حضرت عمرؓ نے قاضی شریح کو مکمل
خودمختاری دی اور خود بھی ان کے فیصلوں کے سامنے سر تسلیم خم کیا۔ (تاریخ الطبری)
د . فوری اور
سستا انصاف: نظامِ عدل سادہ، تیز اور عوام کے لیے قابلِ رسائی تھا۔
حضرت عمرؓ راتوں کو گشت کر کے خود لوگوں کے مسائل معلوم کرتے
اور فوری حل فراہم کرتے۔ (ابن سعد، طبقات
الکبریٰ)
ھ . غیر
مسلموں کے ساتھ عدل: اسلامی ریاست میں اقلیتوں کے حقوق کی مکمل حفاظت کی جاتی تھی۔
حضرت عمرؓ نے ایک بوڑھے یہودی کو بیت المال سے وظیفہ مقرر کیا۔ (ابو یوسف، کتاب الخراج)
و . ظلم
کے خلاف سختی : ہر قسم کے ظلم کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی تھی، خواہ ظالم کتنا
ہی بااثر کیوں نہ ہو۔
حضرت عمرؓ نے اپنے گورنر کے بیٹے کو ایک عام مصری شخص پر ظلم
کرنے پر سزا دلوائی اور فرمایا: "تم نے
لوگوں کو کب سے غلام بنا لیا، حالانکہ ان کی ماؤں نے انہیں آزاد جنا تھا؟" (ابن عبدالحکم، فتوح مصر)
عهد خلافت ميں امیر و غریب سب قانون کے سامنے برابر تھے۔ قاضی
مکمل طور پر آزاد ہوتے تھے۔ وه كسي دباؤ ميں آئے بغير فيصلے دينے ميں آزاد تھے۔
4 . سادگی،
زہد اور تقویٰ
خلفاء کی زندگی انتہائی سادہ اور زاہدانہ تھی، اور وه لوگ
دوسروں كو بھي زهد و تقوي كي ترغيب ديتے تھے، حكمرانوں كو بھي سادگي اختيار كرنے
كي تلقين كرتے تھے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کپڑوں کی تجارت خود کرتے رہے۔ حضرت
عمر فاروق رضی اللہ عنہ دنيا كي ايك بهت
بڑي آبادي كے حكمران هونے كے باوجود ان کے لباس پر پیوند ہوتے تھے۔ حضرت عثمان غنی
رضی اللہ عنہ بے پناہ دولت کے باوجود سادہ زندگی گزارتے تھے۔
حضرت علی المرتضیٰ رضی
اللہ عنہ کا لباس انتہائی سادہ ہوتا اور
کھانے میں معمولی غذا استعمال کرتے۔ فرمایا: “اگر
میں چاہوں تو شہد اور باریک آٹے کی روٹی کھا سکتا ہوں لیکن مجھے ڈر ہے کہ کہیں
میری پیروی کرنے والے لوگ بھی ایسا نہ کرنے لگیں۔”
گورنروں کو ہدایات: حضرت عمر
فاروقؓ نے گورنروں کی تقرری کے وقت انہیں باریک کپڑے پہننے، چھنا ہوا آٹا کھانے،
اور گھر کے دروازے پر پہرہ دار رکھنے سے سختی سے منع کیا تھا۔
حضرت عمرؓ نے اپنے گورنروں کو واضح ہدایات دی تھیں کہ وہ شاہانہ
طرزِ زندگی اختیار نہ کریں۔ آپؓ فرماتے تھے:
“تم
لوگوں کے امیر بنائے گئے ہو، ان پر جابر بننے کے لیے نہیں۔”
انہوں نے اپنے گورنروں کو حکم دیا:
باریک لباس نہ پہنیں
دروازوں پر پہرے دار نہ رکھیں
عوام سے ملاقات میں رکاوٹ نہ ڈالیں
( ابو یوسف، کتاب الخراج، ص
55 )
ایک واقعہ میں حضرت عمرؓ نے اپنے گورنر سعد بن ابی وقاصؓ کو اس
لیے تنبیہ کی کہ ان کے گھر کے دروازے پر پہرے دار کھڑا تھا، جو عوام کی رسائی میں
رکاوٹ بن رہا تھا۔(طبری، ج 3، ص 519)
اسی طرح حضرت عمرؓ نے اپنے گورنروں کے اثاثوں کا حساب بھی رکھا
تاکہ وہ ناجائز طور پر دولت جمع نہ کریں۔ اگر کسی کے پاس غیر معمولی دولت پائی
جاتی تو اس سے بازپرس کی جاتی تھی۔ ( ابن خلدون، المقدمہ، ص 190)
سادگی کا مقصد اور اثرات
خلفائے راشدینؓ کی سادگی محض ذاتی زہد نہیں تھی بلکہ ایک سیاسی
اور اخلاقی پالیسی تھی، جس کے اہم مقاصد یہ تھے:
حکمران اور عوام کے درمیان فاصلہ ختم کرنا
کرپشن اور بدعنوانی کا سدباب
عدل و مساوات کو فروغ دینا
یہی وجہ تھی کہ رعایا اپنے حکمرانوں پر مکمل اعتماد رکھتی تھی
اور اسلامی ریاست ایک مثالی فلاحی نظام بن گئی۔
عہدِ خلافتِ راشدہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ حکمرانی کا اصل حسن
سادگی، دیانت اور عوامی خدمت میں ہے، نہ کہ عیش و عشرت میں۔ خلفائے راشدینؓ نے
اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ ایک حکمران اگر خود سادہ ہو تو اس کا پورا نظام عدل و
انصاف کا گہوارہ بن سکتا ہے۔
5 . بیت
المال اور فلاحی ریاست
اسلام ایک جامع نظامِ حیات ہے جو عبادات کے ساتھ معاشرت، معیشت
اور سیاست کے اصول بھی فراہم کرتا ہے۔ عہدِ خلافتِ راشدہ اس نظام کا عملی نمونہ
تھا، جہاں ریاست کا مقصد عوام کی فلاح، عدل و انصاف اور انسانی حقوق کا تحفظ تھا،
اسی لیے اسے ایک مثالی فلاحی ریاست قرار دیا جاتا ہے۔
فلاحی ریاست وہ ہوتی ہے جو شہریوں کی بنیادی ضروریات—خوراک،
رہائش، تعلیم، صحت اور انصاف—کی ذمہ داری لے۔ خلافتِ راشدہ میں بیت المال کو عوامی
امانت سمجھا گیا، غرباء اور محتاجوں کی کفالت کی گئی، حتیٰ کہ غیر مسلم شہریوں کے
حقوق بھی محفوظ کیے گئے۔
اس دور میں عدل و انصاف کا ایسا نظام قائم تھا کہ خلیفہ بھی
قانون کے تابع ہوتا تھا۔ حکمرانوں کا احتساب کیا جاتا، سادگی اختیار کی جاتی، اور
عوامی ضروریات جیسے پانی، سڑکیں اور زرعی ترقی پر خاص توجہ دی جاتی۔
خلافتِ راشدہ کی نمایاں خصوصیات میں عدل، مساوات، معاشی تحفظ،
شفافیت اور انسانی وقار شامل تھے۔ یہ ماڈل آج کے دور کے لیے بھی رہنمائی فراہم
کرتا ہے کہ ایک کامیاب ریاست کے لیے انصاف، دیانت اور عوامی خدمت بنیادی اصول ہیں۔
خلافتِ راشدہ ایک مثالی فلاحی ریاست تھی جس میں حکمران عوام کے
خادم تھے، اور اسلامی اصولوں کی صحیح تطبیق سے ایک عادل اور خوشحال معاشرہ قائم
کیا گیا۔
خلافتِ راشدہ ایک حقیقی فلاحی ریاست تھی جس ميں بیت المال کو عوام
کی امانت سمجھا جاتا تھا۔ یتیموں، بیواؤں،
معذوروں اور مساکین کی کفالت کی جاتی تھی،حتي كه اگر رياست كا غير مسلم باشنده اگر
معذور هو تو اس كو بھي بيت المال سے
روزينه جاري كيا جاتا تھا جيسا كه حضرت عمر رضي الله عنه كےعهد خلافت ميں اس كي مثال
ملتي هے۔
حضرت عمر فاروق رضي الله عنه نے فلاحي رياست ميں حكمرانوں كي ذمه داري كا دائره
كار كو مزيد وسعت دے كر نه صرف انسانوں بلكه جانوروں تك پھيلا ديا، حضرت عمر فاروق
رضی اللہ عنہ کا قول هے:
"اگر
دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مر جائے تو عمر جواب دہ ہوگا" (تاریخ الطبری)
6 . احتساب (Accountability) کا مؤثر نظام
خلافتِ راشدہ میں حکمران بھی جواب دہ تھا: عوام کو خلیفہ سے سوال کرنے کا حق حاصل تھا۔حضرت سلمان فارسي ؓ نے حضرت
عمر ؓ سے بيت المال سے ملنے والے كپڑوں سے متعلق سوال كيا تو آپ ؓ اس كو ڈانٹنے يا
اس پر الزام لگانے يا هراساں كرنے كے بجائے اس كا تسلي بخش جواب ديا اور اپنے بيٹے
حضرت عبد الله بن عمر ؓ سے اس كي تسلي كرائي اسي طرح ایک عورت نے حضرت عمرؓ کو مہر
کی حد کے مسئلے پر ٹوکا تو آپؓ نے فوراً اپنی رائے واپس لے لی۔
اسي طرح خلافت راشده ميں خلفاء خود بھي احتساب كے لئے هميشه پيش
كرتے تھے اور اپنے ديگر مقرر كرده عمال اور حكمرانوں كا بھي بوقت ضرورت احتساب
كرتے تھے، اس سلسلے ميں كوئي رو رعايت نهيں كي جاتي تھي۔
7 . مساوات و
اخوتِ اسلامی
اسلامی معاشرہ مساوات پر قائم تھا، معاشرے كے باسيوں ميں بھائي
چاره قائم تھا، تعصب اور اقربا پروري جيسے ناسورسے لوگ دور دور تھے اور بلا امتيار
رنگ و نسل و علاقه سب ايك هي لڑي ميں پرويے هوئے تھے، اگر كسي كو فضيلت حاصل تھي
تو وه صرف تقوي كے سبب تھا جيسا كه ارشاد باري تعالى هے: "إِنَّ
أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ"(سورۃ الحجرات: 13)
ترجمه: بے شك تم ميں سب سے معزز الله كے نزديك وه هے جو سب سے
زياده متقي هو۔
لهذا عهدخلافت ميں معاشرے كے تمام افراد يكساں تھے، عرب و عجم،
سیاہ و سفید سب برابر تھے۔ اگر فضيلت كا معيار تھا تو وه "تقوي" تھا ،
اسي لئے غلاموں کو بھی عزت دی گئی،خصوصا جو متقي اور پرهيزگار تھے جیسے حضرت بلالؓ
کو اعلیٰ مقام حاصل تھا۔
8 . دینی و
اخلاقی قیادت
خلفاء محض سیاسی رہنما نہیں بلکہ روحانی پیشوا بھی تھے: ان کا ہر عمل سنتِ نبوی ﷺ
کی پیروی میں ہوتا تھا۔ ان کی زندگی تقویٰ، اخلاص اور دیانت کی عملی تصویر تھی۔جنگوں
ميں عسكري قيادت، مساجد ميں امامت كے فرائض اور عدالتوں ميں قضاة كے فرائض انجام
ديتے تھے۔
9 . فتوحات
اور اشاعتِ اسلام
خلافتِ راشدہ میں اسلام تیزی سے پھیلا، فارس، شام، مصر فتح
ہوئے۔ یہ فتوحات ظلم کے خاتمے اور عدل کے قیام کے لیے تھیں۔
قرآن میں ارشاد ہے: لِيُظْهِرَهُ
عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ (سورۃ التوبہ: 33)
ترجمہ:
“تاکہ وہ (اللہ) اس (دینِ
اسلام) کو تمام ادیان پر غالب کر دے۔”
یہ الفاظ قرآنِ کریم میں مختلف مقامات پر آئے ہیں، جیسے قرآن
مجید کی سورۃ التوبہ (33)، سورۃ الصف (9) اور سورۃ الفتح (28) میں۔
یہ آیت اس عظیم حقیقت کو بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے
رسول حضرت محمد ﷺ کو حق کے دین کے ساتھ اس لیے بھیجا کہ وہ اسے تمام نظام ہائے
زندگی پر غالب کر دے۔ اس “غلبہ” سے مراد صرف عسکری برتری نہیں بلکہ فکری، اخلاقی،
روحانی اور تمدنی غلبہ بھی ہے۔
1 . فتوحاتِ
اسلامی: وعدۂ الٰہی کی تکمیل
عہدِ نبوی اور خصوصاً خلافتِ راشدہ میں جب اسلام نے تیزی سے شام،
مصر اور ایران تک رسائی حاصل کی، تو یہ محض سیاسی توسیع نہیں تھی بلکہ اس آیت کی
عملی تعبیر تھی۔ مثلاً:
جنگ یرموک کے بعد شام میں بازنطینی اقتدار ختم ہوا۔
جنگ قادسیہ کے نتیجے میں ساسانی سلطنت کمزور پڑ گئی۔
مصر کی فتح کے بعد ایک نئے عادلانہ نظام کا قیام عمل میں آیا۔
یہ تمام فتوحات اس بات کی دلیل تھیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کو
غالب کرنے کا وعدہ پورا فرما رہا ہے۔
2 . غلبہ
کا حقیقی مفہوم
اسلامی فتوحات کا مقصد لوگوں کو زبردستی مسلمان بنانا نہیں تھا،
بلکہ:
ظلم کے نظاموں کا خاتمہ
عدل و انصاف کا قیام
توحید کا پیغام پہنچانا
اسی لیے مفتوحہ علاقوں میں غیر مسلموں کو مذہبی آزادی دی گئی،
جو اسلامی غلبے کی اعلیٰ مثال ہے۔ فتوحات عهد خلافت كا مختصر جائزه پيش خدمت هے۔
عہدِ خلافتِ راشدہ (11ھ تا 40ھ) اسلامی تاریخ کا وہ سنہری دور
ہے جس میں نہ صرف ایک مثالی اسلامی ریاست قائم ہوئی بلکہ اسلام کی دعوت تیزی سے
دنیا کے مختلف خطوں تک پہنچی۔ اس دور کی فتوحات محض توسیعِ اقتدار نہیں تھیں بلکہ
عدل، مساوات اور توحید کے پیغام کی اشاعت کا ذریعہ بھی بنیں۔ شام، مصر اور ایران
کی فتوحات اس سلسلے کی نمایاں مثالیں ہیں۔
1.
فتوحاتِ
شام
شام کا علاقہ شام اُس وقت بازنطینی سلطنت کے زیرِ اقتدار تھا۔
خلیفۂ اول حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے شام کی طرف لشکر روانہ کیے، جن میں حضرت
خالد بن ولید رضی اللہ عنہ، حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ
شامل تھے۔
اہم معرکہ جنگ یرموک تھا، جو خلیفۂ دوم حضرت عمر فاروق رضی
اللہ عنہ کے دور میں پیش آیا۔ اس جنگ میں مسلمانوں نے بڑی فتح حاصل کی جس کے نتیجے
میں دمشق، حمص اور بیت المقدس جیسے اہم شہر فتح ہوئے۔ بیت المقدس کی فتح کے وقت
حضرت عمرؓ کا عدل و انکسار تاریخ کا روشن باب ہے۔
2. فتوحاتِ مصر
مصر بھی بازنطینی سلطنت کا حصہ
تھا۔ اس کی فتح کا سہرا حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے سر جاتا ہے۔ انہوں نے
20ھ میں مصر کی طرف پیش قدمی کی۔
اہم معرکہ فتحِ بابلیون اور بعد ازاں اسکندریہ کی فتح تھی۔ ان
فتوحات کے نتیجے میں مصر اسلامی سلطنت کا حصہ بن گیا۔ مسلمانوں نے یہاں عدل و
انصاف کا ایسا نظام قائم کیا جس سے مقامی آبادی نے اسلام کو خوش دلی سے قبول کیا۔
3. فتوحاتِ ایران
ایران اس وقت ساسانی سلطنت کے زیرِ اقتدار تھا، جو ایک طاقتور
سلطنت سمجھی جاتی تھی۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں اس کے خلاف کئی اہم جنگیں ہوئیں۔
نمایاں معرکوں میں جنگ قادسیہ اور جنگ نہاوند شامل ہیں۔ ان
جنگوں میں مسلمانوں کی قیادت حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ اور دیگر جلیل
القدر صحابہ نے کی۔ ان فتوحات کے نتیجے میں ساسانی سلطنت کا خاتمہ ہوگیا اور ایران
کے وسیع علاقے اسلامی سلطنت میں شامل ہوگئے۔
شام، مصر اور ایران کی فتوحات نے اسلامی ریاست کو ایک عالمی
طاقت بنا دیا، مگر اس کی بنیاد ظلم و جبر پر نہیں بلکہ عدل، رواداری اور اعلیٰ
اخلاق پر تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مفتوحہ علاقوں کے لوگوں نے اسلامی نظام کو قبول کیا
اور یہ فتوحات تاریخِ اسلام کا ایک روشن اور مثالی باب بن گئیں۔
10 . انتظامی
و ادارہ جاتی اصلاحات
خلافتِ راشدہ میں باقاعدہ ریاستی ادارے قائم ہوئے: اور حضرت عمر فاروق رضي الله عنه كے عهد ميں بهت سے
نئي اصلاحات نافذ كئے گئے جن ميں سے بعض اصلاحات پر دنيا كے مختلف ممالك اور
رياستوں ميں اب بھي جاري هيں۔
عدلیہ (قضاء): عدليه كو انتظاميه سے الگ كيا گيا اور مختلف قاضي
مقرر كئے گئے اور اور ان كے لئے مشاهيرے مقرر كئے گئے۔
فوجی نظام: عسكري نظام كو موڈيفائي كيا گيا ، باقاعده فوجي نظام
مقرر كيا گيا ، فوجي چھاؤنياں بنائي گئيں اور فوجيوں كے لئے تنخواهوں كے ساتھ ان
كے لئے هر چار ماه بعد چھٹي دينے كا سلسله جاري كيا گيا۔
بیت المال: بيت المال كے نظام كو بهتر طور پر منظم كيا، ضرورت
مندوں كے لئے روزينه مقرر كيا يهاں تك كه شير خوار بچوں كے لئے بھي وظيفه مقرر كيا
گيا۔
ڈاک اور مواصلات کا نظام: ڈاك اور مواصلات كے نظام كو بھي بهتر
انداز ميں منظم كيا گيا ، مختلف شاهراهوں پر ڈاك بنگلے اور ڈاك لے جانے كے لئے ان
مقامات پر تيز رفتار گھوڑے ركھے گئے نيز ان قاصدوں كے لئے كھانے پينے كے انتظامات كئے
گئے۔
اسلامي تقويم كا آغاز: اسلامی تقویم (ہجری کیلنڈر) کا آغاز ہوا۔
صوبائي نظام كا قيام: صوبائی نظام قائم کیا گیا ، صوبائي مركزي
شهروں كو منظم كيا گيا نيز مفتوحه زمينوں كي پيمائش كي گئي اور بندوبستي نظام كو
منظم كيا گيا۔
11 . مذہبی
رواداری اور اقلیتوں کے حقوق
اسلام نه صرف مسلمانوں بلكه غير مسلموں كے حقوق كا بھي محافظ هے
، اسلامي اصول كے تحت كسي كو زبردستي مسلمان نهيں بنايا جاسكتا جيسا كه قرآن میں
ارشاد ہے: "لَا
إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ" (سورۃ البقرہ: 256) يعني دين ميں كوئي جبر
نهيں هے۔
اسي لئے اسلامي معاشرے
ميں غیر مسلموں کے ساتھ عدل و انصاف کیا جاتا تھا، ان کی جان، مال اور عبادت گاہوں
کی حفاظت کی جاتی تھی۔يهي وجه هے كه خلافت راشده ميں غير مسلم شهريوں كے ساتھ نه حسن
سلوك كيا جاتا تھا بلكه ان كو هر طرح كے حقوق اور مذهبي آزادي حاصل تھي۔
12 . اتحادِ
امت اور دینی استحکام
خلافتِ راشدہ نے امت کو متحد رکھا:
اسلام كے خلاف اٹھنے والي تحريكوں كو كچل ديا گيا مثلا منكرين
زكواة كي سركوبي كي گئي، مدعيان نبوت كا قلع قمع كيا گيا۔
اسلام كے خلاف اٹھنے والي سازشوں كا سد باب كيا گيا۔
اختلافات کے باوجود دین کی بنیادیں مضبوط رہیں۔
قرآن کی تدوین (جمع و ترتیب) اسی دور میں ہوئی۔
نتیجہ
خلافتِ راشدہ اسلامی نظامِ حکومت کا ایسا مثالی نمونہ ہے جو
عدل، مساوات، دیانت، فلاح اور روحانیت کا حسین امتزاج پیش کرتا ہے۔ آج کے دور میں
اگر ان اصولوں کو اپنایا جائے تو نہ صرف مسلم دنیا بلکہ پوری انسانیت کے مسائل کا
حل ممکن ہے۔
_________________________________
حوالہ جات (References)
القرآن الکریم
صحیح بخاری
صحیح مسلم
سنن ابی داود
تاریخ الطبری
ابن کثیر، البدایہ والنہایہ
